آزادحکومت اپنے ارکان اسمبلی کو عزت دلانے میں ناکام

مظفرآباد (وقائع نگار)آزاد کشمیر حکومت کا دوہرامعیار' بیوروکریسی کو منتخب نمائندوں پر فوقیت دیدی' نئی پالیسی ممبران اسمبلی کیلئے وبال بن گئی، ایم ایل ایز کو بیوروکریٹ سے ملاقات کے لئے وقت لینا پڑتا ہے اور ان کے دفاتر پہنچ کر ملاقات سے قبل اپنی آمد کی اطلاع کے لئے چٹ بھی بھیجنی پڑتی ہے ، ذرائع نے بتایا کہ بعض ایم ایل ایز اتنے سادہ ہیں کہ سرکاری ملازم بھی ان پر حاوی نظر آتے ہیں  ، ذرائع نے بتایا کہ مظفرآباد کے ایک حلقہ کے ایم ایل اے کچھ دن قبل ایک سیکرٹری حکومت سے ملنے ان کے آفس گئے تو سیکرٹری کے دفتر کے باہر کھڑے نائب قاصد نے ایم ایل اے کو اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ چٹ پر اپنا نام لکھ کر دیں صاحب کو دوں گا اگر انھوں نے اجازت دی تو آپ اندر چلے جانا ایم ایل اے نے اپنا تعارف بھی کروایا لیکن بات نہ بنی ، انھیں نائب قاصد کو چٹ لکھ کر دینی اور دروازے کے باہر کھڑے انتظار کرتے رہے ۔ نائب قاصد چٹ لے کر اندر گیا کچھ دیر بعد سیکرٹری نے اجازت دی تو ایم ایل اے اندر گئے ذرائع نے بتایا ہیکہ ایسے کئی ایم ایل ایز موجود ہیں جن کی عزت بیورو کریسی اور سرکاری اہلکار کئی بار مجروح کر چکے ہیں ،وزیر اعظم آزاد کشمیر بیورو کریسی میں بیٹھ کر اپنے ایم ایل ایز اور وزراء کے حوالے سے سخت زبان استعمال کرتے ہیں جس وجہ سے بیورو کریسی کا رویہ وزراء اور ایم ایل ایز سے ٹھیک نہیں ہے ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دنوں ڈی جی ہیلتھ کو ایک ایڈووکیٹ کی جانب سے تھپڑ رسید کرنا بھی اسی سلسلہ کی کڑ ی ہے