پی ایس سی کے بوگس نتائج پر 46تعیناتیاں سوالہ نشان،متاثرین پریشان

اسلام آباد(حسیب شبیر چوہدری) آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن  کی بد عنوانیوں کا معاملہ،متاثرین تا حال مطمئن نہ ہو سکے ،تحلیل شدہ  پی ایس سی  کے تیار کردہ  بوگس نتائج  پر46 تعیناتیاں سوالیہ نشان بن گئیں۔ایک طرف چئیر مین و ممبران پی ایس سی کو15دسمبر 2016کو  فرائض میں غفلت،بد دیانتی ،بے ضابطگیوں  اور عدم شفافیت کی بنیاد پر  برطرف کیا جا تا ہے جبکہ دوسری طرف  فروری اور مارچ 2017میں  اسی تحلیل شدہ پی ایس سی  کی جانب سے  پرچہ جات کی مارکنگ اور نتائج  کی بنیاد پر 18اسسٹنٹ کمشنر،04اے ایس پی اور24سیکشن آفیسرز  تعینات کئے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق  متاثرہ امیدواروں کی جانب سے  پبلک سروس کمیشن آزاد کشمیر کی جانب سے ناانصافی اور بد عنوانی کے حوالہ سے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان  کے پاس ایک ریفرنس دائر کیا گیا تھا مگر تا حال متاثرین پی ایس سی کی جانب سے دائرریفرنس پر کوئی پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس سی میرٹ کی پامالی پر  متاثرہ امیدوار شعیب محمود اور امین اللہ  نے16اگست2017کو صدر آزاد کشمیر سردار مسعود  خان  کے پاس ریفرنس دائر کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن  کی جانب سے منعقدہ امتحان بسلسلہ تعیناتی  اسسٹنٹ کمشنر ،اے ایس پی اور سیکشن آ فیسرز میں بڑے پیمانے  پر غیر قانونی اقدامات ،بے ضابطگیاں اور بد عنوانی  ہوئی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگست 2015 میں ہونے والے تحریری امتحانات جن کا رزلٹ 24مئی 2016 کو آیا میں شامل ہوئے تھے۔درخواست گزار نے زیر نمبری2238/2016 مورخہ26-07-016 کو رٹ پیٹیشن دائر کی جس  میں اے سی،اے ایس پی اور ایس او  کے امتحانات  کے رزلٹ  کے خلاف استدعا  کی کہ آزاد کشمیر پبلک  سروس کمیشن  نے اس کے چار پر چہ جات  انگریزی کمپوزیشن،اردو ادب،کرنٹ افئیرز اور روز مرہ سائنس کے نمبرات پی ایس سی کی پالیسی کے برعکس دو دفعہ لگوائے ہیں جو کہ محض چند منظور نظر افراد کو نوازنے کیلئے  تھا۔ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ پرچہ جات کو دو دفعہ نمبرات لگائے گئے ہیں اس طرح چند امیدواران کے نمبرات کم کئے گئے  جبکہ بخلاف پالیسی چند منظور نظر امیدواران کو نوازنے کی خاطر دئیے گئے نمبرات  میں اضافہ کیا گیا اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ دوبارہ نمبر اندازی  کے  بعد ممتحن کے دستخط  نہیں ہیں اور نمبرات کا میزان بھی اصل  دئیے گئے نمبرات سے مختلف ہے ۔ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ  پی ایس سی کے ڈائریکٹر امتحانات اورسیکرٹری نے کہا کہ دوبارہ مارکنگ کے حوالہ سے زبانی بات ہوئی ہے اس کا تحریری حکم نامہ موجود نہیں ہے۔پی ایس سی نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملے کی شفافیت برقرار رکھنے کیلئے سوالیہ پرچہ کیلئے ایف پی ایس سی سے پینل حاصل کیا اور اسی نے مارکنگ بھی کی مگر فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے واضح انکار کیا  کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہ ہے۔سیکرٹری پی ایس سی آزاد کشمیر  نے کہا ہے کہ پی ایس سی نے متنازعہ پرچہ جات کی دوبارہ چیکنگ کیلئے کوئی خط و کتابت نہیں کی بلکہ یہ کام بذریعہ ٹیلی فون خفیہ طور پر امتحانی کمیٹی نے کیا۔ریفرنس میں لکھا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے صفحہ 19پر بیان کیا گیا ہے کہ پی ایس سی اور ممتحن  کے درمیان پرچہ جات کی ری مارکنگ کیلئے کوئی خط و کتابت نہیں ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن اور ممتحن  کے درمیان زبانی معاملہ غیر قانونی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پبلک سروس کمیشن آزاد کشمیر نے ٹمپرنگ چھپانے کیلئے متضاد بیانات دئیے اور معاملہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن پر ڈال کر من پسند افراد کو نوازا ہے مگر ایف پی ایس سی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں کہا ہے کہ آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن کے پرچہ جات نہ ہی ایف پی ایس سی نے تیار کروائے ہیں اور نہ ہی  چیک کئے ہیں جبکہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نے بھی دوبارہ مارکنگ کا کوئی تحریری حکم نامہ /ثبوت نہ ہونے پر  زبانی معاملے کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور آزاد کشمیر حکومت نے بھی اپنے نوٹیفکیشن مورخہ 15-12-2016کے ذریعے  چئیرمین اور ممبران پی ایس سی آزاد کشمیر کو بد دیانتی،بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور اپنے فرائض میں غفلت اور عدم شفافیت  کی وجہ سے برطرف کر دیا ہے اور چئیرمین و ممبران کو انکی ملازمت سے برطرف کرنا اس حقیقت کا واضح اظہار ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر،اے ایس پی اور سیکشن آ فیسرز کے امتحانات کا انعقاد  اور نتائج تک کا سارا عمل آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن  کے ایکٹ ،قوانین اور طریقہ کار کی واضح خلاف ورزی ہے۔درخواست گزاروں کی جانب سے صدر ریاست سردار مسعود خان سے استدعا کی گئی ہے کہ  پی ایس سی کی جانب سے منعقدہ تمام امتحان کو کالعدم قرار دیا جائے اور پی ایس سی کو ہدایت فرمائی جائے کہ وہ اسسٹنٹ کمشنر،اے ایس پی اور سیکشن آ فیسرز کی آسامیوں کا دوبارہ امتحان منعقد کرے۔