کشمیر کونسل ایشو پر غلط فہمیاں جلد دور ہونی چاہییں،ساجد میر

مظفرآباد(وقائع نگار) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ و چیئر مین سٹیئر نگ کمیٹی سینٹ برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ کشمیر کے ساتھ ہر محب وطن پاکستانی کو محبت ہے ۔ کشمیریوں کا عزم غیر متزلزل ہے ۔ پاکستان کی سابقہ حکومتی پالیسیاں اور غیر سنجیدہ سفارتکاری نے بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کے پاس گرائونڈ موجود ہے اور کشمیر کے مسئلہ کو ہی بنیاد بنا کر ہم عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ سکتے ہیں۔ عالمی برادری نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق کو تسلیم کیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم پر ہر فورم پر آواز بلند کرنے کے لیے پاکستان کو اقدامات کرنا ہوں گے، کنٹرول لائن پر ہندوستانی جارحیت کسی صورت قبول نہیں اور اس ظالمانہ جارحیت پر پاکستان قوم کو تشویش ہے اور اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں، متاثرین کنٹرول لائن کے دکھ دود میں برابر کے شریک ہیں ۔ کشمیر کونسل کے معاملہ پر غلط فہمیوں کو دور کیا جانا از حد ضروری ہے آزاد کشمیر کو با اختیار بنانا چاہیے لیکن پاکستان کے ساتھ ربط کے لیے ایک مضبوط و مستحکم پل کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ آل پاکستان مرکزی اہل حدیث کانفرنس شوکت اسلام کا اظہار ہے ،8اور 9مارچ کو آل پاکستان مرکزی اہل حدیث کانفرنس میں شرکت کر کے جماعتی قوت کا اظہار کرنا ہو گا۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے مرکزی جمعیت اہل حدیث آزاد جموں وکشمیر کے مرکزی سیکرٹریٹ جامعہ محمدیہ مظفرآباد میں اپنے دورہ آزاد کشمیر کے دوران مرکزی جمعیت اہل حدیث آزاد جموں وکشمیر کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مرکزی سیکرٹریٹ جامعہ محمدیہ کے دورہ کے دوران مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ و چیئر مین سٹیئر نگ کمیٹی سینٹ برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ آزاد جموں وکشمیر میں مولانا محمد یونس اثری اور پروفیسر شہاب الدین مدنی نے قرآن وسنت کی اشاعت کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دی ہیں ۔ ریاستی ترقی میں اور اسلامائزیشن کے نفاذ کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث آزادجموںو کشمیر کے اکابرین نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ مولانا محمد یونس اثری قیام پاکستان سے قبل مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور قیام پاکستان کے بعدمولانا محمد دائود غزنوی اور مولانا محمد اسماعیل سلفی ومرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ساتھ آخر دم تک وابستہ رہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث آزاد جموں وکشمیر کی موجودہ قیادت مولانا محمد صدیق صدیقی بالاکوٹی و ناظم اعلی دانیال شہاب مدنی آزاد جموںو کشمیر میں جماعت کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جو کہ لائق تحسین ہے ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کا منہج قرآن وسنت کی اشاعت و ترویج و تبلیغ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اہل حدیث جامعہ محمدیہ آزاد جموںو کشمیر میں مرکزی جمعیت اہل حدیث کا اثاثہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آل پاکستان اہل حدیث کانفرنس شوکت اسلام کا اظہار ہے اور اس سے جماعتی قوت کو تقویت ہوتی ہے ۔ اس کانفرنس کی کامیابی کے لیے ہر کارکن کو اپنا کردار ادار کرنا ضروری ہے ۔ آل پاکستان اہل حدیث کانفرنس اسلام کے وقار کا اظہار ہے ۔ مرکز اہل حدیث جامعہ محمدیہ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث آزاد جموں وکشمیر کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں کشمیریوں کا وکیل بننا چاہیے ،بدقسمتی سے ماضی کی ہر حکومت کی غیر مستقل مزاجی اور غیر سنجیدہ خارجہ پالیسیوں نے کشمیر تنازعہ پر ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔پاکستان کے بیرون ملک سفارتخانے اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں ۔ بیرون ملک پاکستان سفارتخانوں کی مانیٹرنگ ہونی چاہیے اور سفارتکاروں سے پوچھ گچھ ہونا بھی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حقیقت میں کشمیریوں کی محبت کا حق ادا نہیں کر سکا، مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن کے استعمال کی وجہ سے کشمیری اپنی بینائی سے محروم ہو رہے ہیں، خواتین کی عزتیں تار تار کی جار ہی ہیں،کشمیری جان کے نذرانے پیش کر کے پاکستان کے پرچم میں کفن لے رہے ہیں ،لیکن کمزور خارجہ پالیسی اور تنازعہ کشمیر پر یو ٹرن ہماری ساکھ کو متاثر کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ ہر محب وطن پاکستانی کو محبت ہے ۔ کشمیریوں کاعزم غیر متزلزل ہے ۔ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کے پاس گرائونڈ موجود ہے اور کشمیر کے مسئلہ کو ہی بنیاد بنا کر ہم عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ سکتے ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا آزاد کشمیر حکومت اور پاکستان حکومت کے مابین کشمیر کونسل معاملہ پر غلط فہمیوں کو جلد از جلد دور کرنا چاہیے ، آزاد کشمیر حکومت کو ہر ممکن طور پر بااختیار کرنا چاہیے اور آزاد کشمیر سے پیدا اور حاصل شدہ وسائل پر آزاد کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر ان کے حقوق کو ملنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیرکونسل کو ایک بنیاد بنا کر آزاد کشمیر کے عوام اور پاکستان کے مابین کسی صورت کوئی خلیج حائل نہیں کی جانی چاہیے ۔مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ تقریب سے مرکزی جمعیت اہل حدیث آزاد جموںو کشمیر کے سرپرست محی الدین اثری ، امیر مولانا محمد صدیق صدیقی بالاکوٹی، ناظم اعلی دانیال شہاب مدنی ، سینئر نائب امیر مولانا سید عتیق الرحمن شاہ محمدی، ناظم تبلیغ مولانا زاہد الاسلام اثری ، ناظم تعلیم و تر بیت مولانا عبدالرشید محمود ، تحریک المجاہدین کے نائب امیر عبدالشکور آزاد ، اہل حدیث یوتھ فورس آزاد جموں وکشمیر کے صدر مولانا عبدالغفور طاہری، اہل حدیث یوتھ فورس ضلع مظفرآباد کے صدر عبدالرشید دانش ،ضلعی نائب صدر مولانا سجاد قدوس نے بھی خطاب کیا۔
