پی ایس سی کیس،حکومت نے اعلیٰ عدلیہ کو بھی دھوکہ دیدیا

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) مبینہ اطلاعات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن  بد عنوانی سے متعلق دائر کیس میں اعلی عدلیہ سے بھی فراڈ کی مرتکب  ہے ،رٹ کے جواب میں پی ایس سی کا مؤقف تھا کہ  ری مارکنگ کے نتیجے میں تمام امیدواران کے نمبرات کم ہوئے جبکہ 45امیدواران کے نمبرات کم نہ ہوئے تھے۔پی ایس سی آزاد کشمیر کی جانب سے فیڈرل پی ایس سی سے پرچہ تیار اور مارک کروانے کا مؤقف بھی درست نہ تھا۔چئیرمین پی ایس سی  نے عدالت میں تحریری جواب دیا تھا کہ ری مارکنگ کے دوران کسی امیدوار کے نمبرات میں اضافہ نہیں ہوا جبکہ ایک امیدوار کے نمبر مبینہ طور پر 8سے بڑھ کر 40 ہو گئے تھے۔ذرائع کے مطابق عبدالبصیر تاجور اور محمد منیر  کی رٹ کی نوعیت ایک جیسی تھی لیکن پی ایس سی نے بالکل  مختلف جوابات عدالت عالیہ میں جمع کروائے۔منیر کی رٹ  کے جواب میں فیڈرل پی ایس سی  سے مارکنگ اور امتحانی  کمیٹی کا ذکر نہ تھا جبکہ عبدالبصیر  تاجور کی رٹ کے جواب میں فیڈرل  پی ایس سی  سے مارکنگ کروانے کا جھوٹ اور زبانی امتحان کمیٹی کا زکر شامل تھا۔عبدالبصیر تاجور کی رٹ کے جواب میں پی ایس سی کا مؤقف  تھا کہ ری مارکنگ کے نتیجے میں تمام امیدواران  کے نمبرات کم ہوئے۔جبکہ پینتالیس امیدواران  کے نمبرات کم نہیں ہوئے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 8اگست 2016 کو عبدالبصیر  تاجور کی رٹ کے جواب میں پی ایس سی کا مؤقف  تھا کہ امتحان میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے فیڈرل پی ایس سی  کے سی ایس ایس کے ایگزانینرز کے پینل سے سوالیہ  پر چہ  جات تیار کروائے  اور ان سے  مارکنگ بھی کروائی ہے۔جبکہ فیڈرل پی ایس سی  نے اسلام آباد ہائیکورٹ  میں جواب جمع کروایا  ہے کہ فیڈرل پی ایس سی  نے نہ تو سوالیہ پرچہ  جات تیار کئے ہیں اور نہ ہی  مارکنگ کی۔ذرائع کے مطابق 30ستمبر  2016 کو چیئرمین پی ایس سی نے عدالت العالیہ میں تحریر ی جواب  جمع کروایا تھا کہ ری مارکنگ کے نتیجے میں کسی امیدوار کے نمبرات میں اضافہ  نہیں ہوا ہے جبکہ باغ،مظفر آباد،نیلم اور میرپور  سے تعلق رکھنے  والے امیدواران کے نمبرات میں  اضافہ ہوا  اور مبینہ طور پر ایک امیدورا کے نمبرات8سے بڑھ کر چالیس ہو گئے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثر امیدواران نے صدر آزاد کشمیر کو بھیجے گئے ریفرنس میں ان تمام چیزوں کا ذکر کیا ہے ۔ایک طرف بے ضابطگی پر پی ایس سی تحلیل ہو جاتی ہے جبکہ نتائج کے حوالہ سے بھی  عدالت میں متضاد بیانات  سے جھوٹ کی مرتکب ہے  تو ایسے میں اس پی ایس سی کے تیار کردہ نتائج پر 46لوگوں کی تعیناتی کیسے درست ہو سکتی ہے؟