فاروق حیدرکی بیرسٹر سلطان سے ملاقات،ن لیگ اور تحریک انصاف کا آئینی ترامیم،کشمیر کونسل کے خاتمے پر اتفاق

اسلام آباد (وقائع نگار)حکومت آزادکشمیر اور تحریک انصاف آزادکشمیر کے درمیان کشمیر کونسل کے خاتمے ،آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی،ریاستی حکومت کو مکمل با اختیار بنانے،آئینی عبوری ایکٹ 1974میں ترترامیم اور آزادکشمیر کو انتظامی طور پر بہتر بنانے پر اتفاق ہو گیا ہے پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر نے کشمیر کونسل کے خاتمے اور عبوری آئین ایکٹ 1974میں ترامیم پر بھرپور تعاون کا اعلان کیا ہے جبکہ حکومت حکومت آزادکشمیر کی طرف سے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی جانب سے کونسل کے خاتمے اور عبوری آئین ایکٹ 1974میں ترمیم کی غیر مشروط حمایت کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا ہے  اس بات کا فیصلہ کشمیر کونسل اور عبوری آئین ایکٹ 1974میں ترامیم کے حوالے سے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان اورسابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا ۔دونوں راہنمائوں کے درمیان 1گھنٹہ سے زائد ملاقات جاری رہی اس موقع پر کشمیر کونسل کا مکمل خاتمہ کر کے سارے اختیارات آزادکشمیر حکومت کو منتقل کیے جانے پر اتفاق کیا گیا آزادکشمیر حکومت کے اختیارات مکمل بحال ہونے سے ریاستی تشخص بھی بحال ہو گا اور بد اعتمادی کی فضا کا بھی خاتمہ ہو گا کشمیر کونسل ایسا ادارہے جوکسی کے سامنے جوابدہ نہیں بیس کیمپ کی حکومت کو مکمل با اختیار ہونا چاہیے تاکہ یہ نظر آئے کہ آزادکشمیر کے عوام خود حکومت کر رہے ہیں ملاقات کے دوران وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہاکہ آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات اٹھارہی ہے بلدیاتی انتخابات کے لیے تیاریاں شروع ہیں بجٹ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں حلقہ بندیوں کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور چیف الیکشن کمشنر کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا  کہ سیز فائر لائن کے متاثرین کے مسائل حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں شہداء کا معاوضہ 3لاکھ روپے سے بڑھا کر 10لاکھ روپے کر دیا گیا ہے انڈین فائرنگ کے متاثرین کے مسائل حل کرنے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔اس موقع پر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ کشمیر کونسل کا خاتمہ ناگزیر ہے تحریک انصاف کونسل کے خاتمے کی حامی ہے کشمیر کونسل نے آزاد حکومت کے اختیارات غصب کر رکھے ہیں کونسل آزادکشمیر کے عوام میں نفرت کی علامت بن چکی ہے آئین کی شق 21کو ختم کر کے کشمیر کونسل کا وجود سرے سے ختم کر دیا جائے اس طرح تمام اختیارات بیس کیمپ کی حکومت کو منتقل ہو جائیں گے آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان رابطہ رکھنے کے لیے وزارت امور کشمیر ہی کافی ہے دوطرفہ تعلقات اور رابطہ کو باوقار اور با مقصد بنانے کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کی بھی ضرورت ہے دونوں راہنمائوں کے درمیان ملاقات کے دوران ریاستی حکومت کو بااختیار بنانے کے لیے دیگر امور پر بھی اتفاق کیا گیا اور آزادکشمیر کو کرپشن سے پاک کرنے اور خطہ کو انتظامی طور پر بہتر بنانے کے امور پر بھی اتفاق کیا گیا وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے تحریک انصاف آزادکشمیر کی طرف سے سب سے پہلے کشمیر کونسل کے خاتمے کے فیصلے کی غیر مشروط حمایت کے اعلان کا بھرپور خیر مقدم کیا ۔
دریں اثناء وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اس بات پر متفق ہیں کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کو بااختیار بناتے ہوئے تمام مالیاتی اور انتظامی اختیارات کونسل سے منتخب ریاستی حکومت کو منتقل کئے جائیں۔ اس سارے عمل کی مخالفت یا اس میں روڑے اٹکانے  کی کوششیں کرنے والے افراتفری اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں جس کا یہ خطہ قطعی طور پر متحمل نہیں ہو سکتا، حکومت پاکستان کے شکر گزار ہیں جس کی خصوصی دلچسپی سے کے باعث آزاد کشمیر کے عوام کا دیرینہ مطالبے آئینی ترامیم پر انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ پیش رفت ہو رہی ہے۔ اس اہم معاملے پر آزاد کشمیر کے اندر قومی اتفاق رائے موجود ہے۔ جس کے لیے تمام سیاسی قوتوں،سول سوسائٹی،میڈیا سمیت تمام مکاتب فکر کا مشکور ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر ایک پرامن خطہ ہے ریاست جموں و کشمیر کے عوام نے 1944میں فیصلہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونگے۔ جس کی تائید میں جنوری 1947میں کشمیر اسمبلی کے ہونے والے انتخابات میں ریاستی جماعت مسلم کانفرنس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور پھر اس کے بعد 19جولائی کی قرارداد میں کشمیریوں نے اپنے مستقبل کا تعین کیا۔ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی وابستگی نا قابل تسخیر ہے اور اس وابستگی میں کوئی دراڑ نہیں آ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ دانستہ یا نا دانستہ طور پر آئینی ترامیم کے عملی کو التواء یا تاخیر کا شکار بنانا چاہتے ہیں جسے آزاد کشمیر کی تمام سیاسی قوتیں کسی صورت میں قبول نہیں کریں گی، جو لوگ آئینی ترامیم کو تاخیر کا شکار بنانا چاہتے ہیں انھیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر یہ کام اب نہ ہوا تو شاید پھر کبھی نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان سے امید ہے کہ ترامیم کی جلد منظوری ہو جائے گی۔ جس کے بعد اسمبلی اور کونسل کا مشترکہ اجلاس بلا کر آئینی اصلاحات کے عمل کو مکمل کیا جائے گا ہماری خواہش ہے کہ یہ سلسلہ جلد از جلد مکمل ہو ۔