(ن) لیگ اور اتحادیوں کا چیئرمین سینیٹ کیلئے رضا ربانی کی حمایت کا فیصلہ، ذرائع

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) نے چیئرمین سینیٹ کے لیے پیپلزپارٹی کی جانب سے رضا ربانی کی نامزدگی کی صورت میں ان کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔
سینیٹ انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی ایوان بالا میں اپنا چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین لانے کے لیے سرگرم ہیں اور اس کے لیے پیپلزپارٹی نے فاٹا کے آزاد سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
جیونیوز کےمطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف کی سربراہی میں اتحادی جماعتوں کا اہم اجلاس ہوا جس میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پشتونخوا میپ کے محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو شریک ہوئے جب کہ اجلاس میں (ن) لیگ کے سینئر رہنما بھی موجود تھے۔
رضا ربانی کی حمایت کی تجویز نوازشریف نے دی، ذرائع
ذرائع کے مطابق اجلاس میں نوازشریف نے اتحادی جماعتوں کے سامنے تجویز رکھی کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے رضا ربانی کو اگر چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کے طور پر سامنے لایا جاتا ہے تو اس فیصلے کی حمایت کی جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی تجویز کو اتحادی رہنماؤں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا ہے اور تجویز کی بھرپور حمایت کی گئی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اگر رضا ربانی کے علاوہ دوسرے کسی امیدوار کو سامنے لایا جائے گا تو (ن) لیگ اور اس کی اتحادی جماعتیں اس کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں طے پایا کہ تمام اتحادی جماعتیں پہلے اپنے نمبر پورے کریں گی، نمبر گیم کی تعداد پوری ہونے کے بعد مشاورت کی جائے گی اور پھر تمام اتحادی جماعتیں اپنے امیدواروں کو سامنے لائیں گی۔
اجلاس کےبعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں حاصل بزنجو نے کہا کہ ہمارے پاس 54 ارکان ہیں اور ہمارے نمبر پورے ہیں لہٰذا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا فیصلہ پرسوں یا کل شام تک ہوجائے گا۔
ایم کیوایم کی حمایت لینے کا فیصلہ
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کا خواجہ سعد رفیق، مشاہد اللہ اور مشاہد حسین سید پر مشتمل تین رکنی وفد ایم کیوایم کی حمایت حاصل کرنے کے لیے پارٹی کے دونوں دھڑوں سے ملاقات کرے گا جس میں ایم کیوایم کی حمایت حاصل کی جائے گی۔
واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کے بعض حلقوں کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے لیے سلیم مانڈوی والا اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے انوارالحق کاکڑ کے نام سامنے آرہے ہیں۔
