کنٹرول لائن پر بم پروف فرسٹ ایڈ پوسٹیں بنانیکا کا فیصلہ،شہداء کیلئے مالی امداد 10لاکھ کرنے کی سفارش

اسلام آباد(حسیب شبیر سے)آزادکشمیر حکومت نے متاثرین کنٹرول لائن کیلئے پیکیج تیار کرلیا ہے جس کی حتمی منظوری جلد دیئے جانیکا امکان ہے۔وزیر مواصلات و تعمیرات عامہ چوہدر ی محمد عزیز کی زیر صدارت لائن آف کنٹرول کے قریب مقیم سول آبادی کے مسائل کے حل کے سلسلہ میں کابینہ کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین وزیر مال سردار فاروق سکندر خان، سینئر ممبربورڈ آف ریونیو فیاض علی عباسی، کمیٹی کے سیکرٹری چوہدری مختار حسین سیکرٹری بورڈ آف ریونیوکے علاوہ سیکرٹری محکمہ جنگلات سید ظہور الحسن گیلانی، کمشنر مظفرآباد ڈویژن ظفر محمود خان، کمشنر پونچھ ڈویژن امتیاز احمد، ایڈیشنل کمشنر میرپور چوہدری محمد طارق، ایڈیشنل سیکرٹری فنانس جمعہ خان، ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ محمد سرفراز، ڈائریکٹر SDMAراجہ سجاد خان، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر منظور احمد، ناظم برقیات نواز عباسی نے شرکت کی۔ اجلاس میں لائن آف کنٹرول کے قریب بسنے والی متاثرہ آبادی کو درپیش مشکلات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے متاثرین لائن آف کنٹرول کو دی جانے والی مالی امداد میں شہداء کے لیے03لاکھ سے بڑھا کر 10لاکھ روپے، مستقل معذور ہو نے والوں کے لیے اڑھائی لاکھ سے 08لاکھ روپے اور شدید زخمی کے لیے ایک لاکھ سے 03لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔ اِسی طرح معمولی زخمی ہونے والوں کے لیے 40ہزار روپے مالی امداد دینے کی سفارش بھی کی ہے۔ کمیٹی نے بھارتی گولہ باری سے زخمی ہونے والے ایسے متاثرہ افراد جنہیں فوری علاج معالجہ کے لیے بڑے ہسپتالوں میں اپنے ضلع سے باہر بھیجا جانا ضروری ہو انہیں بھی فوری طور پر مالی امداد کی ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی نے بھارتی گولہ باری کے زخمیوں کی ابتدائی طبی امداد کے لیے لائن آف کنٹرول سے ڈیڑھ کلو میٹر کی حدود کے اندر فرسٹ ایڈ پوسٹیںقائم کرنے کے لیے فوری سکیم مرتب کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ نیز کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ ایسی فرسٹ ایڈ پوسٹیں صرف لائن آف کنٹرول کے متاثرین کے لیے قائم کی جائیں گی جن کی عمارت بم پروف ہو گی۔ اِن پوسٹوں میں چوبیس گھنٹے عملہ موجود رہے گا تاکہ ہروقت زخمیوں کو طبی امداد کی سہولت میسر رہے۔ کمیٹی نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں خصوصی ایمبولینس سروس یقینی بنائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ 15/20منٹ کے اندر مریضوں کو طبی مراکز اور ہسپتالوں میں منتقل کر کے جانیں بچائی جا سکیں۔ کمیٹی نے یہ ہدایت بھی کی کہ لائن آف کنٹرول سے متعلق محکمہ صحت تمام تحصیل ہیڈ کوارٹرز ، دیہی مراکز صحت اوربنیادی مراکز صحت تمام عملہ حاضر رکھے اور ترجیحاً مقامی عملہ تعینات کیا جائے۔ زخمیوں کے لیے خون کی فوری فراہمی یقینی بنانے کے لیے بلڈ گروپنگ کروائی جائی۔ کمیٹی نے کابینہ کے لیے سفارش کی ہے کہ لائن آف کنٹرول کے قریبی آبادی میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر یقینی بنانے کے لیے محکمہ لوکل گورنمنٹ کو ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کیئے جائیں تاکہ متاثرہ عوام کے مسائل کم کیئے جا سکیں۔ متاثرہ علاقوں میں 100فیصد بجلی کی تنصیب یقینی بنائی جائے اور لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ کمیٹی نے لائن آف کنٹرول کے علاقوں میں بجلی کی لائنوں اور ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے بجٹ میں الگ سے فنڈز مہیا کرنے کی سفارش بھی کی ہے تاکہ ہمہ وقت بجلی کی دستیابی رہ سکے۔ اجلاس کے دوران کمیٹی نے سیکرٹری جنگلات کو ہدایت کی کہ لائن آف کنٹرول کے قریب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے لیے شدید ضرورت کے پیش نظر درختوں کی کٹائی پر عائد پابندی ختم کی جائے اور اس سلسلہ میں اگر ضروری ہو تو آرمی حکام سے رابطہ کیا جائے۔ کمیٹی نے موبائل فون سروس کی فراہمی یقینی بنانے کی سفارش بھی کی ہے۔ کمیٹی نے لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں دفاعی کمیٹیاں فعال کرنے کی ہدایت بھی کی۔ کمیٹی نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ لائن آف کنٹرول پر بسنے والے ریاستی شہری دفاعی حصار کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، جو گذشتہ 07دہائیوں سے اپنی جان و مال کے نذرانے پیش کر کے دفاع پاکستان کے لیے ہر اول دستہ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کمیٹی حکومت متاثرین لائن آف کنٹرول کی تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی اور انہیں کسی جگہ تنہا نہیں چھوڑے گی۔ کمیٹی نے پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے پر شکریہ ادا کیااور مسلح افواج کے کردار کو سراہا۔ یاد رہے کہ مورخہ03-10-2017کو منعقد ہونے والے آزاد جموں وکشمیر کابینہ کے اجلاس میں لائن آف کنٹرول پر کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی، جس پر کابینہ نے لائن آف کنٹرول پر بسنے والے شہریوں کی مشکلات حل کرنے کے لیے وزیر مواصلات و تعمیرات عامہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں سردار فاروق سکندر حیات خان وزیر مال اور فیاض علی عباسی سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ممبران رکھے گئے تھے۔ سیکرٹری بورڈ آف ریونیو چوہدری مختار حسین کو کمیٹی کا سیکرٹری مقرر کیا گیا تھا۔ کمیٹی اپنی سفارشات کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کرے گی۔
