مارچ میں معاملات یکسو ہو جائینگے،طے شدہ معاملات کو الجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے،فاروق حیدر

مظفر آباد(وقائع نگار)وزیر اعظم ازاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمدفاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ ازادکشمیر اور گلگت  بلتستان کے عوام کو با اختیار بنانے کافیصلہ میاں محمد نواز شریف کا ہے ، پاکستان مسلم لیگ ن ازادکشمیر کے منشور میں شامل ہے کہ ازادکشمیر قانون ساز اسمبلی کو با اختیار بنایا جائیگا۔ مسلم لیگ ن ازاد کشمیر نے 2011ء اور 2016میں اسی منشور کے تحت انتخابات میں حصہ لیا۔ جس ایکٹ کی اصل حالت میں بحالی کا کچھ لوگ مطالبہ کررہے ہیں اس ایکٹ میں سپریم کورٹ کا وجود ہی نہیں ، ان لوگوں کا شاید ائینی اور ریاستی تاریخ کے حوالہ سے مطالعہ کمزور ہے ۔ ازادکشمیر کو با اختیار بنانے کا بیڑا مسلم لیگ ن نے اٹھایا ۔ ائین میں ترامیم کیلئے جو مسودہ تیار ہوا اس میں 98فیصد مسلم لیگ ن کا حصہ ہے ۔ ائین میں ترمیمی مسودے پر اسمبلی کے اندر اور باہر کی تمام جماعتوں کے دستخط موجود ہیں جب ایک معاملے پر اتفاق رائے طے پا چکا ہے تو اب کیوں معاملات کو الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ایکٹ1974سے پہلے بھی ازادکشمیر حکومت اور حکومت پاکستان کے تعلقات موجود تھے ۔ ان قائدین کا شکرگزار ہوں جنہوں نے ائین میں ترامیم اور ازادکشمیر قانون ساز اسمبلی کو با اختیار بنانے کیلئے بھرپور تعاون کیا۔ سٹیٹس کو رکھنے والوں نے ہر معاملے کو مذاق بنارکھا ہے ۔جوتا پھینکنے اور سیاہی ڈالنے جیسے واقعات کی مذمت نہ کی گئی تو کوئی شخص جلسہ کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔پاکستان سے نظریاتی تعلق کو مضبوط بنانے کیلئے ازادکشمیر میں پاکستان مسلم لیگ ن کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ مجھے کسی سے اس معاملے پر سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ۔ ازادکشمیر سے جبری لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو گیا ہے ،وفاقی وزیر پانی و بجلی اویس لغاری کا شکریہ ادا کرتا ہوں وہ کشمیر ہائوس ائے اور ہمارا دیرینہ مسئلہ حل کیا ۔ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی ازادکشمیر کے معاملات میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں ۔ امید ہے کہ مارچ کے مہینے میں ازادکشمیر کے اہم معاملات یکسو ہوجائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہاروزیر اعظم ازادکشمیر نے اتوار کے روز ایوان وزیر اعظم میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات راجہ مشتاق احمد منہاس بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم ازادکشمیر کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے ازادکشمیر کو با اختیار بنانے کیلئے جاندار اقدامات اٹھائے ، مسلم لیگ ن نے ریاست کو با اختیار بنانے کیلئے یہ معاملہ اپنے منشور میں شامل کیا۔ ازادکشمیر میں ائینی ترامیم اور کشمیر کونسل کے معاملے پر ازادکشمیر کی ساری سیاسی جماعتیں تعاون کریں۔ بیر سٹر سلطان محمود، عبدالرشید ترابی ، لبریشن لیگ سمیت ان تمام جماعتوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے ان ایشوز پر غیر مشروط حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس کی مجلس عامہ نے پیر حسام الدین گیلانی کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس میں ایکٹ1974کو مسترد کیا تھا ۔ سردار سکندرحیات خان کے بیان پر بھی افسوس ہے کہ وہ ازادکشمیر کے اہم ایشوز کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ سکندر حیات خان نے خود کہا تھا کہ ایکٹ1974سے ازادکشمیر اور پاکستان کے درمیان جو پل بنا ہے اس پر یکطرفہ ٹریفک چلتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ کونسل کا کام ازادکشمیر کے عوام کا پیسہ اکھٹا کر کے انہیں واپس کرنا ہے لیکن یہ پیسہ بھی پورا نہیں ہوتا۔ ازادکشمیر کی ترقی کیلئے ترقیاتی فنڈز اور بجٹ خسارہ حکومت پاکستان مہیا کرتی ہے ۔ کشمیر کونسل کے ملازمین تنخواہیں اور مراعات ریاستی امدن سے لیتے ہیں ،کونسل کے ملازمین ایک سال میں 34ماہ کی تنخواہیں وصول کرتے ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 29دسمبر2016کو میاں محمد نواز شریف کی مظفراباد امد پر ائین میں ترامیم سمیت اہم ریاستی امور طے ہو گئے تھے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لائن اف کنٹرول کے متاثرین کیلئے 8نئی ایمبولینسز خریدی جارہی ہیں ۔ ایل او سی کے شہداء کیلئے معاوضہ میں بھی معقول اضافہ کیا جارہا ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ازادکشمیر کے ائین کی دفعہ31کے اندر دو طرفہ تعلقات کا طریقہ کار موجود ہے ۔ اس ایشو کو بلاوجہ الجھایا جارہا ہے جو ریاست اور عوام کے مفاد کے خلاف ہے ۔ بلدیاتی اداروں کی طرف سے ٹیکسز کے نفاذ میں عام ادمی کے مفاد کو مدنظر رکھا جائیگا۔