آزادکشمیر کی نئی جوڈیشل پالیسی ہائیکورٹ میں چیلنج

مظفرآباد(نمائندہ خصوصی)نئی سٹیٹ جوڈیشل پالیسی کمیٹی ایکٹ عدالت العالیہ میں چیلنج۔عبوری آئین کی دفعہ 44-Aاور 46-1کے مغائر نئی پالیسی آئین کے مدمقابل ایک اور نظام کو کھڑا کرنے کے مترادف ہے ۔فیاض جنجوعہ ایڈووکیٹ نے عدالت العالیہ میں رٹ دائر کر دی آج سماعت ہوگی ۔تفصیلات کے مطابق سینئر وکیل فیاض جنجوعہ ایڈووکیٹ نے سٹیٹ جوڈیشل پالیسی کمیٹی ایکٹ محرہ 13-09-17کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ عبوری آئین کی دفعہ 44اے اور 46ایک کے تحت نئی جوڈیشل پالیسی آئین سے متصادم ہے ۔آئین کے تحت ماتحت عدلیہ کے قوانین اور پالیسی بنائے جانے کے تمام اختیارات ہائی کورٹ کے پاس ہیں ۔ایکٹ کبھی بھی آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔اگر کوئی پالیسی بنانا ہی تھی تو آئین میں تبدیلی کی جاتی ۔فیاض جنجوعہ ایڈووکیٹ نے ایکٹ کو چیلنج کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ سٹیٹ جوڈیشل پالیسی کے چیئرمین چیف جسٹس سپریم کورٹ سینئر جج سپریم کورٹ چیف جسٹس ہائیکورٹ ،سینئر جج ہائی کورٹ اور سیکرٹری لاء شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل سپریم کورٹ کے کئی فیصلے موجود ہیں کہ جس میں 44اے اور 46ایک کی تشریح قرار دیتے ہوئے ماتحت عدلیہ کی نسبت قانون سازی اور پالیسی کا اختیار ہائیکورٹ کو ہے ۔