مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوجیوں نے 2نوجوانوں کو شہید اور 4مکان تباہ کر دیئے

سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر کے مضافاتی علاقے میں بھارتی فورسز نے مزید دونوجوانوں کو شہید کردیا اور الزام عائد کیا ہے کہ وہ بی جے پی کے رکن اسمبلی انور خان کے محافظوں پر گولیاں چلا کر اور اسلحہ چھیننے کی کوشش کے بعد فرار ہوئے تھے،جھڑپ میں ایک اہلکار بھی زخمی ہوا ہے ،وادی میں صورتحال کشیدہ ،واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لوگ سڑکوں پر نکل آئے، جھڑپوں میں متعدد زخمی ،اہلکاروں پر پتھراؤ،بھارت مخالف نعرے بازی ،دکانیں اور بازار بند،انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل کر دی گئی جبکہ بڈگام میں 3نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق بھارتی فورسزش نے سرینگر کے مضافاتی علاقے بالہامہ میں مزید دو نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے ۔بھارتی فوج کے مطابق یہ نوجوان بی جے پی کے رکن اسمبلی انور خان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلا کر اور اسلحہ چھیننے کی کوشش کے بعد فرار ہوئے تھے ۔جھڑپ میںدو فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے ۔وادی میں پولیس چیف ڈاکٹر ایس پی وید نے سماجی رابطہ ویب سائٹ ٹویٹر پر اس کی تصدیق کی اور بتایا کہ مارے جانے والے نوجوان مجاہدین تھے جن کی شناخت راسک ساکن ڈاڈسرہ ترال اور شبیر احمد ساکن پدگام پورہ کے بطور ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق سرینگر کے بالہامہ علاقے میں بالہامہ اور کھنموہ کے وسط میں قائم عرش انسٹی چیوٹ آف ہیلتھ سائنس اینڈٹیکنالوجی نامی نرسنگ انسٹی چیوٹ کے باہر مسلح عسکریت پسندوں نے ایک پولیس اہلکار کو گولی مار دی،جس کی وجہ سے وہ زخمی ہوا۔ذرائع کے مطابق مذکورہ انسٹی چیوٹ، جو کہ بی جے پی کے ایک رکن اور ضلع بارہمولہ کے سیکریٹری محمد انور خان چلا رہے ہیں،اس وقت انسٹی چیوٹ میں موجود تھے،جبکہ ان کی حفاظت پر مامور 2محافظین بھی وہاں پر موجود تھے۔ مذکورہ بی جے پی لیڈر نے انسٹی چیوٹ کے باہر مشتبہ افراد کو مشکوک حالت میں نقل و حرکت کرتے دیکھا،اور اپنے ذاتی محافظین کو ہدایت دی کہ وہ دیکھیں کہ کون لوگ ہیں۔ ایک اہلکار بلال احمد جونہی انسٹی چیوٹ کے گیٹ پر پہنچا اور ان افراد سے پوچھ تاچھ شروع کرنا شروع کردی تو2 لوگ سامنے آئے جبکہ تیسرے نے گولی چلائی،جو پولیس اہلکار کو لگی،اور وہ زخمی ہوا۔ اس دوران زخمی اہلکار سے ہتھیار چھیننے کی بھی کوشش کی گئی،تاہم مسلح افراد اس میںناکام ہوئے،جبکہ پولیس اہلکاروں نے بھی جواب میں گولیاں چلائیں۔ حملہ میں زخمی ہونے والے اہلکار کو سرینگر کے بون اینڈ جوائنٹ اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ بھاگم دوڑ کے بیچ ہی حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ حملے کے فورا بعد پولیس اور فورسز کی بھاری جمعیت جائے واردات پر پہنچ گئی اور ایک وسیع علاقے کو محاصرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔ اس دوران وری پورہ بالہا مہ میں جنگجو وں اور فورسز کا آ منا سامنا ہوا۔ ذرائع کے مطابق عسکریت پسندمذکورہ بستی میں ماسٹر غلام محی الدین میر اور مدہوش بالہامی کے رہاشی مکان میں داخل ہوئے اور فورسز پر فائرنگ کی ،جس کے جواب میں فورسز نے بھی مورچہ سنبھالتے ہوئے جوابی کارروائی کی اور اس طرح طرفین کے مابین جھڑ پ کا آغا ز ہوا۔پورے علاقے کے ارد گرد خار دار تاربچھائی گئی اور تمام راستے سیل کردیئے گئے ۔اس دوران سینکڑوں کی تعداد میں پولیس اورفوجی اہلکاروں کی اضافی کمک سے سخت ناکہ بندی کی تاکہ جنگجووں کو فرار ہونے کا موقعہ نہ مل سکے۔ جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان ابتدائی جھڑپ میں ایک سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہوا،جس کو علاج و معالجہ کیلئے فوج کے92اسپتال منتقل کیا گیا۔سی آر پی ایف ترجمان راجیش یادو نے میڈیا کو بتایا ہ110بٹالین سے وابستہ اہلکار پردیپ کے کندھے پر زخم لگا،اور وہ زخمی ہوا،تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ادھر واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لوگوں نے دکانیں اور بازار بند کر دئیے اور ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ۔اس دوران مظاہرین نھے بھارتی فورسز کے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔اس دوران قابض فورسز کی جانب سے بھی لوگوں کو منتشر کر نے کیلئے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا بے دریغ استعمال کیا۔ اس دوران جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ۔وادی میں صورتحال کشیدہ ہو نے کے باعث کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند کر دئیے گئے۔سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب ،انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی بند کر دی گئی۔دریں اثناء بڈگام پولیس نے جنوبی کشمیر سے تین افراد کو ہتھیاروں اور گولہ بارود سمیت گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بڈگام پولیس اور فوج نے ایک خصوصی اطلاع ملنے پر تین افراد کی گرفتاری عمل میں لائی جن کے قبضے سے تین پستول ، چار میگزین اور گولیوں کے 12رائونڈ برآمد کئے گئے ۔ گرفتار شدہ افراد کی شناخت فیضان الزمان بٹ ولد غلام قادر بٹ ساکن کنڈی بجبہاڑہ، سجاد احمد ڈار ولد غلام رسول ڈار ساکن سانبورہ پلوامہ اور میسر احمد ڈار ولد مشتاق احمد ڈار ساکن سانبورہ پلوامہ کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ان تینوں کی گرفتاری سے بڑے حادثات کو ٹال دیا گیا ہے۔ پولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔ ادھر شمالی کشمیر کے حاجن کے کھوس محلہ میں جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان گولیوں کے تبادلے کے بعد جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ ذرائع نے بتایا کہ فورسز نے دو سے تین جنگجوئوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع کے بعد صبح ساڑھے سات بجے علاقے کا محاصرہ کیا تھا۔
