سرینگر بھارتی فائرنگ سے ایک اور نوجوان شہید تعداد 5ہوگئی 5 بھارتی فوجی جہنم واصل

سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں  بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہونے والے نوجوانوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے جبکہ  جھڑپ میں  بھارتی فورسز کے 5اہلکاروں کو بھی جہنم واصل کیا گیا ہے ، زخمی ،ایک
لاپتہ ،دو روز تک جاری رہنے والی جھڑپ  مارے گئے کشمیریوں کی میتیںورثاء کے سپرد نہ کی جا سکیں،بھارتی فوج نے شناخت بھی جاری نہیں کی ،قابض فوج نے  اپنی کارروائیوں کو دیگر علاقوں تک بڑھا دیا ،ہیلی کاپٹرز سے  نگرانی ،مختلف علاقوں میں گھر گھر تلاشی کے دوران  اہلکاروں کا طوفان بدتمیزی،خواتین اور بچوں سمیت  اہل خانہ پر تشدد،گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ۔تفصیلات کے مطابق شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ کے ہلمت پورہ علاقہ میں دو رو ز سے جاری طویل  اورخون ریز جھڑپ میں شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کی تعداد5ہو گئی ہے  جبکہ بھارتی فورسز کے 5اہلکار بھی جہنم واصل ہوئے ہیں ۔مارے جانے والوں میں پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کے 2اہلکاراور3فوجی اہلکار شامل ۔ اس دوران ایک فوجی اہلکار لاپتہ ہوگیا ہے جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں ۔ فوج نے اپنی کارروائی کو وسعت دیکر باتر گام تک بڑھا دیا اور وہا ں گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کردی گئی ۔کپوارہ قصبہ سے چند کلو میٹر دور ہلمت پورہ کے فتح خان چک جنگلی علاقہ میں منگل کی دوپہر اس وقت خون ریز جھڑپ شروع ہوئی جبکہ فوج کی 41 راشٹریہ رائفلز ،160ٹی اے اور سپیشل آ پریشن گروپ(ایس او جی)کپوارہ نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر وہا ں چھپے جنگجوئو ں کی تلاش شروع کی ۔پولیس کا کہنا ہے کہ جو نہی فوج نے وہا ں چھپے جنگجوئو ں کی تلاش شروع کی تو جنگجوئوں نے فوج پر اندھا دھند فائرنگ کی جبکہ فوج نے فوری طور جوابی کارروائی میں شام دیرتک 4جنگجوئو ں کو جا ں بحق کیا ۔فوج کو اطلاع تھی کہ علاقہ میں جنگجوئو ں کا ایک گروپ چھپا بیٹھا ہے اور منگل کو رات دیر گئے تاریکی کی وجہ سے اپنی کارروائی معطل کی ۔علاقہ میں خون ریز جھڑپ کے بعد فوج کی مزید کمک روانہ کی گئی اور جنگجوئو ں کے فرار ہونے کے تمام راستو ں کو سیل کیا ۔پولیس نے بتا یا کہ علاقہ میں رات بھر وقفے وقفے سے گولیو ں کا تبادلہ جاری رہا ۔ بدھ علی الصبح فوج نے جا ں بحق ہوئے جنگجوئو ں کی نعشو ں کو جب پولیس کو سپرد کرنے کی کارروائی شروع کی تو جنگل میں چھپے دیگر جنگجوئو ںنے فوج اور ایس او جی پر دو بارہ اندھا دھند فائر نگ شروع کی جس کے بعد طرفین کے درمیان گولیو ں اور مارٹر شلنگ ہوئی جس کی وجہ سے ہلمت پورہ اور اس کے آ س پاس کے علاقے دہل اٹھے ۔فوج نے بدھ کی صبح کو ہی ہلمت پورہ کے لوگوں کو اپنے گھرو ں سے باہر آنے نہیں دیا کیونکہ علاقہ میں زبردست فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا ۔ دوسرے روز کئی گھنٹو ں کے بعد جب فائر نگ کا سلسلہ رک گیا تو فوج اور ایس او جی نے آگے پیش قدمی کر کے جنگجو ئو ں کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے دو بارہ تلاشی کارروائی شروع کی تاہم وہا ں پر گھات لگائے بیٹھے جنگجوئوں نے زبردست فائر نگ کر کے پولیس کے سپیشل آ پریشن گروپ کے2 اور فوج کے ایک اہلکار کو براہ راست گولیو ں کا نشانہ بنایا اور وہ ہلاک ہوگئے جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے ۔ سہ پہر کے بعد مسلسل فائرنگ کے نتیجے میں ایک اور زخمی فوجی اور ایک جنگجوہلاک ہوگئے ۔ اس طرح کل ملا کر دو روز سے جاری جھڑپ میں مرنے والو ں کی تعداد 9تک پہنچ گئی جن میں 3فوجی ،2ایس او جی اہلکار اور 5جنگجو شامل ہیں ۔ہلاک ہونے والے فوجی اہلکارو ں کی شناخت محمد اشرف راتھر 160ٹی اے ،نائک رنجیت سنگھ 160ٹی اے ،حولدار زورآور سنگھ 160ٹریٹوریل آرمی، محمد یوسف چیچی ایس او جی بلیٹ نمبر 602ساکن کاچہا مہ ،دیپک پنڈتا ایس اوجی شامل ہیں جبکہ زخمیو ں میں ایس اوجی کے جاوید احمد بلٹ نمبر 237،ایس آئی ہر ویندر سنگھ بلیٹ نمبر 109271شامل ہیں ۔ذرائع کے مطابق فوج نے جنگجوئو ں کی تلاش کے لئے علاقہ کے ایک وسیع حصہ کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کی ہے جبکہ علاقہ میں فوجی ہیلی کاپٹر بھی گشت کرتے دکھائے گئے ۔فوج نے ہلمت پورہ کے نزدیکی جنگلی علاقوں وئن ،باتر گام اور گلگام میں بھی بھاری جمعیت تعینات کی اور تمام راستو ں پر ناکے لگا دیئے ہیں۔ ادھر باتر گام میں فوج اور ایس او جی نے ایک حصہ کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی کے دوران لوگو ں کے شناختی کارڑ چیک کئے ۔آخری اطلا ع ملنے تک ہلمت پورہ میں جھڑپ جاری تھی ۔ ادھرسید علی گیلانی نے ہلمت پورہ کپوارہ میں جاں بحق ہوئے جنگجوئوںکو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تحریک مزاحمت شہدا کے گرم گرم خون سے عبارت ہے اور اس کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ادھرحاجن بانڈی پورہ  میں کریک ڈائون کے دوران مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیں ہوئیں۔اس دوران سابق وزیر کے قافلے پر بھی پتھرائو کیا گیا۔حاجن کے کوچک محلہ کو  فورسز نے صبح سویرے محاصرے میں لیکر تلاشی  کارروائی شروع کی۔ اس دوران نوجوانوں نے گھروں سے نکل کر  فورسز پرزبردست پتھراو کیا ۔اس موقعہ پر انہیں منتشر کرنے کیلئے شلنگ کی گئی۔عینی شاہدین کے مطابق جب فورسز محاصرہ ختم کرنے کے بعد واپس جانے لگے تو محمد امین کے صحن میں انکی گاڑی کی توڑ پھوڑکی گئی اور شیشے  چکنا چوکئے گئے۔ دریں اثنا عینی شاہدین کے مطابق سوناواری کے ایم ایل اے ایڈووکیٹ محمد اکبر لون جب بانیاری  میںجلسے کو خطاب کرنے کے بعد حاجن پل پر پہنچے تو انکے قافلے پر نوجوانوں نے پتھراو کیا ، البتہ کوئی زخمی نہیں ہوا۔دریں اثناء وادی میں شہری ہلاکتوں کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔اس دوران ہڑتال کے باعث کارواباری مراکز اور تجارتی ادارے بند  جبکہ انٹر نیٹ اور موبائل سروس بھی بدستور معطل ہے ۔لوگوں نے گزشتہ روز بھی مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں ۔اس دوران  بھارتی فورسز  کیخلاف شدید نعرے بزی کی گئی  تاہم کوئی ناغوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔