آزادکابینہ کا 12گھنٹے طویل اجلاس محکمہ اکلاس ختم پراپر ٹی ٹیکس معطل بلاسود قرضہ پر وگرام شروع آٹا سبسڈی میں 30جون تک تو سیع
مظفرآباد(وقائع نگار)آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم آزادکشمیر بلاسودبزنس لون پروگرام شروع کرنے،پراپرٹی ٹیکس کی وصولی معطل کرنے کے ساتھ قانونمیں تاجروں اور پراپرٹی مالکان کے تحفظات کو سن کر ترامیم کیے جانے،لائن آف کنٹرول کے پانچ کلومیٹر تک کے علاقہ جات میں بنیادی سہولیات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے،ترقیاتی ادارہ جات میونسپل کارپوریشنز سمیت دیگر محکمہ جات کی آمدن میں خاطر خواہ اضافے کے لیے اقدامات اٹھانیکا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ کابینہ نے 30جون تک آٹے پر سبسڈی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ اکلاس کو 31مارچ سے مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اکلاس سے متعلق 2015کے حکومتی نوٹیفیکیشن پر عمل درآمد کیا جائے گا اور اکلاس ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دیا جائے گا۔ کابینہ نے آزاد کشمیر میں ٹور ازم پالیسی کی تشکیل کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ہے کمیٹی میں سیکرٹری قانون، سیکرٹری مالیات اور سیکرٹری سیاحت شامل ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کابینہ کا اجلاس وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینئر وزیر چوہدر ی طارق فاروق، وزیر قانون و پارلیمانی امور راجہ نثار احمد خان، وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی، وزیر جنگلات سردار میر اکبر خان، وزیر تعمیرات عامہ چوہدری محمد عزیز، وزیر تعلیم بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی، وزیر اطلاعات و سیاحت مشتاق منہاس ، وزیر خوراک سید شوکت علی شاہ، وزیر ٹرانسپورٹ ناصر ڈار، وزیرسپورٹس چوہدری محمد سعید، وزیر مال سردار فاروق سکندر، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات سمیت مختلف محکمہ جات کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔ کابینہ اجلاس کے دوران انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر نے کابینہ اراکین کو آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کابینہ نے آزاد کشمیر میں امن و امان کی مجموعی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا۔ کابینہ اجلاس میںاردو کی پرائمری تک کتاب کے بنیادی مضامین کی منظوری دی گئی اور محکمہ تعلیم سکولز کو ہدایت کی گئی فیصلہ کیا گیا کہ نصاب جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے تمام تر لوازمات پورے کیے جائیں گے ۔کابینہ اجلاس نہر اپر جہلم کے معاملے پر آزاد کشمیر اور حکومت پنجاب کے درمیان معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی وزیراعظم کو بتایا گیا کہ نہر اپر جہلم کے حوالے سے چیف سیکرٹری آزادکشمیر اور چیف سیکرٹری پنجاب کے درمیان رابطہ ہوا ہے امید ہے جلد پیش رفت ہوگی ۔ کابینہ اجلاس میں آزاد کشمیر میں 30جون 2018تک آٹے پر سبسڈی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ رمضان المبارک کے دوران آزاد کشمیر کے عوام کو سستا اور معیاری آٹا فراہم ہو سکے۔ کابینہ اجلاس میں اراضی کے معاوضہ جات سے متعلق محکمہ مال کو ہدایت کی گئی کہ وہ معاوضہ جات کے مقدمات کی موثر طریقے سے پیروی کرے تاکہ اراضی کے حصول کے لیے حکومت کے تعین کردہ انراخ پر ہی عمل درآمد ہواور حکومت کو اراضی ایوارڈ ز پر اضافی بجٹ خرچ نہ کرنا پڑے۔ کابینہ اجلاس میں اکلاس کو 31مارچ سے مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں حکومتی نوٹیفیکیشن جو 2015میں جاری کیا گیا ہے اس پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا اور اکلاس ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دیا جائے گا۔ کابینہ اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر بنک سے متعلق ترمیمی ایکٹ 2018کی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ ترمیمی ایکٹ قانون ساز اسمبلی میں پیش کیاجائے گا۔ پراپرٹی ٹیکس کو التواء میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پراپرٹی ٹیکس میں مشاورت سے ترامیم کی جائیں گی آزادکشمیر کابینہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو مزید بہتر فعال اور مستحکم بنانے کے لیے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے سفارشات طلب کر لی ہیں آزاد کشمیر کابینہ کے اجلاس میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت سے جانی و مالی نقصان کا بھی جائزہ لیا گیا سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایل او سی کے شہداء کو سو فیصد معاوضہ جات ادا کر دیئے گئے ہیں زخمیوں میں سے اکثریت کو معاوضہ ادا کیا گیا ہے اور زخمیوں کو معاوضہ جات کی ادائیگی جاری ہے املاک کے نقصانات کا معاوضہ زیر کار ہے اس موقع پر کمیٹی سے سفارشات طلب کی گئی ہیں کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ڈیمجز کلیم ادا کیئے جائیں گے کمیٹی کی سفارشات کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی اس موقع پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ املاک کے نقصانات کے معاوضہ جات کی فراہمی کے لیے اگر بجٹ کم ہوا تو یہ بجٹ حکومت آزادکشمیر پورا کرے گی کابینہ اجلاس میں وزیراعظم آزادکشمیر بلاسودبزنس لون پروگرام شروع کرنے،پراپرٹی ٹیکس کی وصولی معطل کرنے کے ساتھ قانون میں تاجروں اور پراپرٹی مالکان کے تحفظات کو سن کر ترامیم کیے جانے،لائن آف کنٹرول کے پانچ کلومیٹر تک کے علاقہ جات میں بنیادی سہولیات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے،ترقیاتی ادارہ جات میونسپل کارپوریشنز سمیت دیگر محکمہ جات کی آمدن میں خاطر خواہ اضافے کے لیے اقدامات اٹھانیکا فیصلہ کیا گیا ہے قرضہ جات کی فراہمی کے لیے 75کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جن کی فراہمی کے لیے انتظامی اخراجات حکومت آزادکشمیر برداشت کرے گی ۔لوکل کونسلز کے ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے سلسلہ میں کابینہ کمیٹی سے سفارشات طلب کر لی گئی ہیں۔ اور لوکل کونسلز کی گرانٹ پر کٹ میں ایک سال کا اضافہ کیا گیا ہے۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ ماضی میںسیاسی بنیادوں پر انتظامی ڈھانچے میں کیے جانے والے بے جا اضافے کے فوائد عوام الناس تک نہیں پہنچے اور آج صورتحال یہ ہے کہ محکمہ جات کی تنخواہوں کے لیے بھی ترقیاتی بجٹ سے رقم لینا پڑ رہی ہے ہماری حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو محکمہ جات عوام کو سہولیات کی فراہمی اور اپنے بنیادی مقاصد پورے نیہں کر رہے انکی تنظیم نو کا عمل شروع کیا جائے گا ریاست کے وسائل صرف تنخواہیں دینے کے لے نہیں آزاد کشمیر کے تمام آبادی کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہیں ماضی میں ہونے والی سیاسی و سفارشی بھرتیوں کے باعث آج اکثر جگہوں پر اہل اور قابل آفیسران کی شدید قلت ہے جسکے باعث حکومتی اقدامات اور ویژن کے ثمرات مکمل طور پر عوام تک نہیں پہنچ رہے ہمارے پاس آخری موقع ہے اس بگڑے نظام کو درست کریں میں میری کابینہ اور پارلیمانی پارٹی اس بات پر متفق ہے کہ آزادکشمیر کے اندر گڈ گورننس قائم کی جائے جس کے لیے ہم نے مشکل اور تلخ مگر عوام دوست فیصلے کیئے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ آزادکشمیر کے اندر پڑھے لکھے بیروزگار افراد کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش ہے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعظم بزنس لون پروگرام کے تحت دیے جانے والے قرضے بھی خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر دیئے جائیں گے اور اس عمل میں کسی بھی سطح پر سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی جب میرٹ پر فیصلے ہوں اور حق دار کو اس کا حق ملے پھر معاشر ے کے اندر بے چینی اور انتشار کی کیفیت ختم ہو جاتی ہے ۔
