وزیراعظم سے ملاقات میں کھویا کچھ نہیں پایا ہی ہے، چیف جسٹس پاکستان

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کا تذکرہ چھڑنے پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے  کہا کہ اپنے ادارے اور وکلا کو مایوس نہیں کروں گا۔  

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار مری میں غیرقانونی تجاوزات کے کیس کی سماعت کر رہے تھے کہ اس دوران  ان کی وزیراعظم سے حال ہی میں ہونے والی ملاقات کا تذکرہ ہوا۔ 

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے اس ادارے اور اپنے اس بھائی پر اعتبار کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات میں کھویا کچھ نہیں پایا ہی ہے، اپنے ادارے اور وکلاء کو مایوس نہیں کروں گا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کئی سائل آتے ہیں میں ان کی بات سن لیتا ہوں، میرا کام فریادی کی فریاد سننا ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بذریعہ اٹارنی جنرل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد 27 مارچ کو یہ ملاقات چیف جسٹس کے چیمبر میں 2 گھنٹے تک جاری رہی۔

اٹارنی جنرل کی جانب سے بعدازاں جاری بیان میں کہا گیا کہ  وزیراعظم نے پاکستان میں عدالتی نظام کی بہتری کے لئے مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی اور چیف جسٹس سے کہا کہ حکومت سستے اور فوری انصاف کے لئے وسائل فراہم کرے گی۔

وزیراعظم اور چیف جسٹس کے درمیان ملاقات پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ 

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا اپنے ردعمل میں کہنا تھا کہ اگر ملاقات کرنا ہی تھی تو ایسی جگہ ملتے جہاں لوگوں کو پتہ نہ چلتا اور ملاقات کے لئے یہ وقت مناسب نہیں۔ 

دوسری جانب تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ اگر نواز شریف کو کوئی این آر او ملا تو اسے قبول نہیں کریں گے اور اس کے خلاف سڑکوں پر ہوں گے۔

پی ٹی آئی ترجمان فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے اداروں سے بات چیت کا بیان انتہائی تشویشناک ہے، قانون کے یکساں اور بے لاگ نفاذ کے علاوہ کوئی راستہ قابل قبول نہیں۔