نائب صدر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان ڈاکٹر انعام اللہ جبری لا پتہ

اٹک : حال ہی میں وکالت کا امتحان پاس کرنے والے اٹک کے معروف سینئر ایم بی بی ایس ڈاکٹر ، نائب صدر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان ڈاکٹر انعام اللہ کو دن دیہاڑے جامعہ تفہیمات اسلامیہ کے قریب رہائشی و تجارتی مرکز میں درجنوں افراد کی موجودگی میں سیاہ گاڑی میں سیاہ لباس میں ملبوس 5 نقاب پوش مسلح اہلکاروں نے گن پوائنٹ پر جبری لا پتہ کر دیا ڈاکٹر انعام اللہ اپنے گھر سے اپنے ملازم محمد ایوب کے ہمراہ کلینک جا رہے تھے کہ انہیں روک کر ان کے ملازم محمد ایوب کو ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے کو کہا 3 افراد نے ایک بازو اور افراد نے دوسرے بازو سے پکڑ کر ڈاکٹر انعام اللہ کو زبردستی کالے رنگ کی ڈبل کیبن گاڑی میں سوار کرا کر جبری لا پتہ کر دیا ڈاکٹر انعام اللہ کے حوالہ سے اٹک کا کوئی بھی سرکاری اہلکار یا ادارہ ان کے جبری لا پتہ ہونے کے بارہ میں خاموش ہے ڈاکٹر انعام اللہ کے اہلخانہ کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں کہ انہیں کیوں اور کس بناء پر جبری لا پتہ کیا گیا ہے ڈاکٹر انعام اللہ جو کہ پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور حال ہی میں اٹک سے وکالت کی ڈگری حاصل کی تھی کو جبری لا پتہ کیا گیا ہے اس سلسلہ میں ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان نے اپنی پریس ریلیز میں ان کی جبری گمشدگی کو اقوام متحدہ کے قوانین جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک میں انسانی حقوق کے علمبردار کو اس طرح جبری لاپتہ نہیں کیا جا سکتا اس بنیاد پر ڈاکٹر انعام اللہ کے کیس کو ترجیحی بنیادوں پر اقوام متحدہ میں بھیج دیا گیا ہے چیئر پرسن ڈی ایچ آر پاکستان آمنہ مسعود جنجوعہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈاکٹر انعام اللہ کو جلد رہا نہ کیا گیا اور حکومت کی طرف سے اس پر کسی قسم کی حکمت عملی نہ اختیار کی گئی تو پورے ملک میں احتجاجی دھرنے دیئے جائیں گے ۔
