گورنمنٹ بوائزماڈل ہائی سکول حضرو میں طلباء داخلہ کیلئےہائیکورٹ میں رٹ دائر

حضرو ( رپورٹ : نثار علی خان ) چنگیز خان ایک بار پھر سب سے پہلے، سب سے آگے، ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ بوائزماڈل ہائی سکول حضرو میں طلباء کو داخلوں سے محروم ، اختیارات سے تجاوز کرنے اور پرائیویٹ سکولز کی طرف بچوں کا رجحان بڑھانے کے خلاف خادم چھچھ چنگیز خان نے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی، سی ای او ایجوکیشن ضلع اٹک ڈاکٹر جاوید اقبال اعوان، ڈی او سیکنڈری راجہ امجد اور سینئر ہیڈ ماسٹر ڈاکٹرجاوید محمود ملک کو فریق بنایا گیا، تفصیلات کے مطابق پنجم اور ہشتم کے رزلٹ کے بعد نئی کلاسز میں داخلوں کیلئے حضرو اور گردونواح کے دیہات کے کئی طلباء نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی سکول حضرو میں داخلوں کیلئے رجوع کیا مگر ہیڈ ماسٹر ڈاکٹر جاوید ملک نے ہمیشہ کی طرح اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے طلباء کو بلاوجہ پریشان کرنا شروع کر دیا ، نویں جماعت میں داخلوں کے خواہشمند طلبہ پر 12سال سے زائد کی عمر کی شرط لاگو کرتے ہوئے ان کو سرکاری سکول میں پڑھائی بند کرکے پرائیویٹ سکولز میں داخلے لینے کا راستہ بتانا شروع کردیا جو کہ حکومت پنجاب کی پالیسی سے متصادم ہے ، جہاں حکومت طلباء کو پرائیویٹ سکولز سے نکال کر سرکاری سکولوں میں داخلے کا رجحان بڑھا رہی ہے وہاں ہیڈ ماسٹر ڈاکٹر جاوید اس کی سخت خلاف ورزی کرتے آرہے ہیں، خادم چھچھ چنگیز خان کو والدین اور کئی حلقوں کی جانب سے شکایات ملنے پر انہوں نے فوری اقدامات اٹھائے اور ہائی کورٹ راولپنڈی میں CEO، ڈی اوایجوکیشن سیکنڈری اٹک اور ہیڈ ماسٹر کے خلاف معروف قانون دان محمد خلیق الزمان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کے ذریعے رٹ دائر کر دی اس حوالہ سے چنگیز خان نے سی این این سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ چھچھ کے بچے میرے بچے ہیں ان پر تعلیم کے دروازے بند کرتے نہیں دیکھ سکتا ، سرکاری سکولز میں پڑھائی کے خواہشمندغریب لڑکوں کو داخلے دلانے کی جنگ ماضی میں سوئی گیس اور ریسکیو 1122منصوبوں کی طرح عوام کی دعاؤں سے جیت کر دکھاؤں گا، انہوں نے کہا کہ چھچھ کے عوام یا چھچھ کے بچوں کے دشمن میرے دشمن ہیں ۔ یاد رہے ڈاکٹر جاوید ملک کے خلاف چھچھ کے درجنوں معززین کو شکایات مگر ہیڈ ماسٹر جاوید ملک کی بھر پور سفارش ہونے کی وجہ سے طلباء اور ٹیچرز پسے چلے آرہے تھے ، ڈاکٹر جاوید اقبال کی طرف سے طلباء سے بیگار لینے کی خبرسی این این سمیت کئی بڑے نیوز چینلز پر نشر ہونے کی خبر پر انکوائری چلائی گئی مگر ایک بڑی سفارش نے اس انکوائری کو ان کے حق میں بدل دیا جبکہ 20ویں گریڈکے افسر کی ہمشیرہ کو ہراساں کرنے کے حوالہ سے انکوائری دبا دی گئی تھیں تاہم اب چنگیز خان نے عوام کی خاطر ذاتی جیب سے وکیل ہائر کرکے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی ہے جس کی کاپی سی این این نے حاصل کر لی ہے، اس رٹ سے عدالت عالیہ سے طلباء کو ریلیف ملنے کا سو فیصد امکان ہے ، ادھر سی این این کے رابطہ کرنے پر وزارت تعلیم پنجاب نے 12سال سے زائد عمر کے بچوں کے داخلوں پر پابندی کی تردید کر دی ہے ۔