جنڈ :ملک سہیل کمڑیال اور اے سی مہر عنصر حیات کی ملاقات،تحصیل مسائل پر گفتگو

جنڈ:ایم این اے ملک سہیل خان کمڑیال کی اسسٹنٹ کمشنر جنڈ مہر عنصر حیات سے ملاقات، تحصیل جنڈ کے تعلیم، صحت،اراضی سنٹر اور دیگر بنیادی مسائل بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔تفصیلات کے مطابق ممبر قومی اسمبلی ملک سہیل خان کمڑیال نے اسسٹنٹ کمشنر جنڈ مہر عنصر حیات سے ان کے آفس جنڈ میں ملاقات کی۔ میٹنگ میں ڈپٹی ڈی او فی میل میڈم صدرہ، ڈپٹی ڈی او میل فیاض صاحب، تحصیلدار خالد مسعود ستی ،وائس چیئرمین ایم سی جنڈ ملک شاہد محمود بھی موجود تھے۔ اس موقع پر تحصیل جنڈ کے عوام کو اراضی کمپیوٹرائز سنٹرمیں سٹاف کی کمی اور عوام کو درپیش مسائل ،تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال جنڈ میں اسٹاف کی کمی و ادویات کی فراہمی مسائل کے حل بارے تفصیلی گفتگو کی گئی ۔اس موقع پر کونسلر شیر خان نے محلہ آباد میں دو سرکاری سکولوں کے بارے بھی مسائل سے آگاہ کیا جبکہ دیگر تحصیل بھر کے تعلیمی اداروں میں سٹاف کی کمی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانے پر بھی مختلف معاملات زیر غور لائے گئے۔ عوام کی طرف سے شہر کے اندر ٹریفک جام کا مسئلہ بھی سامنے پیش آیا جس کے بارےمیٹنگ میں یہ طے پایا کہ ٹریفک پولیس اہلکار کی شہر کی اندر تعینات کئے جائیں گے جو ٹریفک کو کنٹرول کریں گے تاکہ شہر کے اندر ٹریفک جام نہ ہو سکے۔ اس موقع پر ملک آصف ، کونسلر شیر خان ، ملک زاہد، ملک ندیم ،و دیگر رہنما بھی موجود تھے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم این اے ملک سہیل خان کمڑیال کا کہنا تھا کہ میں کسی پارٹی کا ہی نہیں بلکہ عوام کا ایم این اے ہوں ، اس لیے میرے دروازے حلقہ این اے56 کی عوام کیلئے کھلے ہیں ،جبکہ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس پسماندہ تحصیل کے مسائل کے حل کیلئے رکاوٹوں کی بجائے آسانیاں پیدا کرے تاکہ کئی سالوں سے پسماندہ رہنے والے علاقوں کو بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم این اے بننے سے پہلے بھی عوام کے درمیان موجود تھے اور اب بھی عوام کے درمیان موجود ہیں اور جہاں تک ممکن ہو سکے مسائل کے حل کیلئے ہر پلیٹ فورم پر آواز بھی اٹھائیں گے اور تگ و دو بھی کرتے رہیں گے۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر مہر عنصر حیات کا کہنا تھا کہ ہم یہاں پر عوام کی خدمت کیلئے بیٹھے ہیں۔جب سے جنڈ میں تعیناتی ہوئی کوشش کی کہ مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ لوگ کی شکایات اور درخواستیں بھی آتی رہتی ہیں جن پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اورموقع پر ان کے جائز مطالبات حل کئے جاتے ہیں۔
