اٹک: عدالتی کارروائی میں خلل ڈالنے پرسب انسپکٹر کو سزاو جرمانہ

اٹک :ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک ارشد اقبال نے انچارج چوکی سٹی تھانہ سٹی اٹک سب انسپکٹرصداقت علی کو دوران سماعت بلند آواز سے بولنے اور عدالتی کاروائی میں خلل ڈالنے پرتوہین عدالت کے جرم میں ایک ماہ قید اور 200 روپے جرمانہ کی سزا کے احکامات جاری کردئیے عدم ادائیگی جرمانہ مزید 5 روز کی سزا بھگتنی ہو گی تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک ارشد اقبال کی عدالت میں کرایہ داری ایکٹ کے تحت تیمور اعجاز بنام سرکار مقدمہ کی سماعت کے دوران ملزم طاہر اقبال نے عدالت کے روبرو تھانہ سٹی اٹک میں کرایہ داری کے اندراج کے کاغذات پیش کیے اس پر فاضل جج نے انچارج چوکی سٹی تھانہ سٹی اٹک سب انسپکٹرصداقت علی کی سرزنش کرتے ہوئے کہ کرایہ داری کے اندارج کے باوجود مقدمہ درج کرنا خلاف قانون اور جرم ہے لہٰذا سب انسپکٹر صداقت علی ایک گھنٹہ کے اندر ایف آئی آر کی اخراج رپورٹ مرتب کر کے عدالت میں پیش کریں اور سب انسپکٹر کو شو کاز نوٹس جاری کیا اس پر ایک گھنٹہ بعد سب انسپکٹر صداقت علی نے پیش ہو کر کہا کہ ملزم تیمور اعجاز کو شامل تفتیش نہ ہونے کی بناء پر انہیں مزید کچھ وقت دیا جائے اس پر فاضل جج نے ریڈر کو فیصلہ لکھوانے کے دوران عدالت میں اونچی آواز میں توہین عدالت کرنے اور عدالتی کاروائی میں دخل انداز ہونے پراسے متنبہ کیا تاہم سب انسپکٹرنے اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عدالتی کاروائی میں مخل ہونے کی روش برقرار رکھی اور نامناسب الفاظ ادا کیے جس پر عدالت نے زیر دفعہ 228 پی پی سی کے تحت سب انسپکٹر صداقت علی کے خلاف کاروائی کے احکامات جاری کردئیے سب انسپکٹر نے عدالت میں 2 الگ الگ معافی نامے لکھ کر دیئے جن میں سے ایک شوکاز نوٹس اور دوسرا سزا کے خلاف تھا سب انسپکٹر نے ایک معافی نامہ میں تحریر کیا کہ اس نے عدالت کے سامنے اونچی آواز سے بات کرنے کی غلطی کی جس پر وہ معافی مانگتا ہے دوسری دستاویز میں سب انسپکٹر نے تحریری طور پر معافی مانگتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ میں نے عدالت کی جو توہین کی ہے اس پر شرمندہ ہوں معافی دی جائے آئندہ محتاط رہوں گا فاضل عدالت کی جانب سے سپرٹنڈنٹ جیل اٹک کوزیر دفعہ 228 پی پی سی سزا پر عملدر آمد کے لیے تکمیل وارنٹ بھی جاری کردیا گیا ہے فاضل جج نے اپنے شوکاز نوٹس میں آر پی او راولپنڈی اور ڈی پی او اٹک کو بھی اس سلسلہ میں کاروائی کرنے کے احکامات جاری کیے بعدازاں ڈی ایس پی اٹک اور صدر سرکل کے تمام پولیس افسران عدالت کے روبرو پیش ہوئے جس پر فاضل جج نے سب انسپکٹر کو دی گئی سزا پر اس کے معافی نامے کو قبول کرتے ہوئے اسے معاف کرتے ہوئے سزا کے احکامات پر عملدرآمد رکوا دیا ۔