حسن ابدال:پریس کلب کی الاٹمنٹ کی منسوخی پر صحافتی براردی سراپا احتجاج

حسن ابدال:پریس کلب کی الاٹمنٹ کی منسوخی پر صحافتی براردی سراپا احتجاج، پریس کلب کے دفاع کے لیے ہر معاذ پر ڈٹ کر کھڑے رہنے کا عزم۔ چیئرمین بلدیہ غیر ضروری کاموں میں بے جا مداخلت کی بجائے اپنی توانائی شہر کو قبضہ مافیا سے آزاد کرانے اور عوام کی بہتری کے لیے صرف کریں۔ افسران بالا غیر مناسب روئیے کا نوٹس لیں ، 1988سے پریس کلب کے ممبران حسن ابدال کے عوام کے مسائل کو حکام بالا تک پہنچا اور مظلوموں کی آواز بن کر کا م کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین بلدیہ حسن ابدال ظہیر احمد اور ان کی ٹیم کی جانب سے حسن ابدال پریس کلب کی عمارت کی الاٹمنٹ کی منسوخی پر حسن ابدال پریس کلب اور پریس کلب تحصیل حسن ابدال کے ممبران اور دیگر صحافی جن میں صداقت علی، محمد نعیم مغل، امجد اقبال، رفیق مغل، مدثر، شاہد اقبال، بلال، چوہدری وقار علی، ساجدمحمود صدیقی، رفیق قادری، ہاشم علی علوی اور دیگرز شامل ہیں سراپا احتجاج بن گے۔ صحافیوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہاہے کہ 1988سے قائم کردہ حسن ابدال پریس کلب کارکن تحریک پاکستان اور بابائے صحافت گولڈ میڈلسٹ محمد مسکین مغل مرحوم کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے جن کی کوششوں سے افسران بالا کی جانب سے پریس کلب کو گوردوارہ سری پنجہ صاحب کے بلمقابل بلدیہ پلازہ میں دو عدد دوکانیں الاٹ کی گئیں جہاں 1988سے لیکر آج تک حسن ابدال پریس کلب قائم ہے۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ مذکورہ دوکانوں کی منسوخی غیر ضروری اور سمجھ سے بالاتر اقدام ہے جس کی نہ صرف ہر سطح پر بھر پور مذمت کی جائے گی بلکہ پریس کلب کے دفاع اور تحفظ کے لیے بھر پور احتجاج کرتے ہوئے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔ اس موقع پر صحافیوں کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلدیہ ظہیر احمد کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائیاں غیر ضروری کاموں میں خرچ کرنے کی بجائے شہر کی بہتری اور عوام کی مشکلات میں کمی پر صرف کریں تاکہ حسن ابدال کے عوام کو ریلف مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی بنا کسی لالچ کے نہ صرف مظلوم عوام کی آواز ہیں بلکہ دیگر عوامی مسائل سے بھی حکام کو آگاہ کرنے کا زریعہ ہیں۔ اس موقع پر پریس کلب تحصیل حسن ابدال کے صحافیوں نے بھی حسن ابدال پریس کلب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مشترکہ طور پر حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ پریس کلب کے ساتھ مبینہ محاذ آرائی کا فوری طورپر نوٹس لیکر ایسے غیر ضروری اقدامات سے روکا جائے۔