اٹک: مارگلہ ٹیکسٹائل ملز سے نکالے گئے ملازمین کا احتجاج 

اٹک (اٹک نیوزمانیٹرنگ ڈیسک) مارگلہ ٹیکسٹائل ملز منوں نگر حسن ابدال کی انتظامیہ نے لیبر قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 30 سال سے کام کرنے والے درجنوں محنت کشوں کو یک جنبش قلم ملازمتوں سے برطرف کر کے فیکٹری پر تالے ڈال کر پولیس تھانہ صدر حسن ابدال میں محنت کشوں کے خلاف درخواست دے دی ٹیکسٹائل ملز کے گیٹ پر محنت کش 3 دن سے مسلسل سراپا احتجاج ہیں کہ انہیں گزشتہ 2 ماہ کی تنخواہ کے چیک جو سالوں کیش نہیں ہوں گے کی بجائے نقد ادائیگی کی جائے اور پولیس کی ذریعے انہیں جس طرح حراساں کیا جا رہا ہے وہ قابل مذمت ہے اپنا حق مانگے پر ٹیکسٹائل ملز کے انتظامیہ نے سکیورٹی کے عملہ کو نکالے گئے افراد کے فیکٹری میں داخل کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اپنا حق احتجاج کے ذریعے مانگا تو ساری زندگی احتجاج کرتے رہو گے ایک روپیہ تک نہیں ملے گا وفاقی اور صوبائی حکومت حلقہ کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ، ضلع انتظامیہ ، پولیس ، محکمہ لیبر اور دیگر محکمہ جات محنت کشوں کی بجائے ہماری رائے کو ترجیح دیں گے اور محنت کشوں کی کسی بھی جگہ شنوائی نہیں ہو گی محنت کشوں کے احتجاج پر بیٹھے ہوئے رہنمائ وں نے بتایا کہ ایڈمن صدیق ، جی ایم باجوہ ، حاجی فتح اور دیگر نے ہمارے خلاف قانونی کاروائی کیلئے تھانہ صدر حسن ابدال میں درخواست دی پولیس نے ہ میں تھانہ بلایا ہم تھانہ میں پیش ہوئے اور اپنا موَقف بتایا تو پولیس نے فریقین کا موَقف سننے کیلئے مارگلہ ٹیکسٹائل ملز منوں نگر کی انتظامیہ کو بلایا تو وہ ٹال مٹول سے کام لینے سے کام لے کر آنے سے انکاری ہیں رمضان المبارک اور عید الفطر سر پر ہے اور محنت کش بے روز گار اور گزشتہ 2 ماہ کے بقایاجات نہ ملنے پر سخت مالی پریشانی کا شکار ہیں اکثر محنت کشوں کو محلہ کے دکانداروں نے ادھار دینے سے بھی انکار کر دیا ہے کوئی بھی سرکاری محکمہ ان کی مدد کیلئے تیار نہیں گزشتہ 8 ماہ کے دوران 50 سے زائد محنت کشوں کو ملازمتوں سے بغیر نوٹس دیئے فارغ کر کے ان کے فیکٹری میں داخلے پر پابندی لگا کر کہا جاتا ہے کہ اپنا حساب کھڑی پر لے لیں اور کھڑی پر بیٹھا کلرک کوئی بات سننے کی بجائے انہیں دھتکار دیتا ہے اور چیک دیئے جاتے ہیں جو سابقہ روایت کے مطابق 3 سے 4 سال تک کیش نہیں ہوتے اور بینک ہر مرتبہ اکاﺅنٹ میں رقم نہیں ہے کا کہہ کر چیک واپس کر دیتے ہیں قانون کے مطابق جواز پیش کیے بغیر یا 3 ماہ کی پیشگی تنخواہ دیئے بغیر ملازمت سے فارغ نہیں کیا جا سکتا تاہم مارگلہ ٹیکسٹائل ملز منوں نگر حسن ابدال کی انتظامیہ قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قانونی تقاضوں کو اپنے پاﺅں تلے روند رہی ہے اور حکومت منتخب ممبران اسمبلی سمیت کوئی بھی سرکاری محکمہ یا افسران ان محنت کشوں کی صداءسننے کیلئے تیار نہیں اور کسی بھی جگہ ان کی شنوائی نہیں ہو رہی۔