حضرو:اغوا ہونے والے ماں بیٹے کا معمہ حل ،قاتل داماد نکلا

حضرو:تھانہ رنگو پولیس مردان سے اغوا ہونے والے ماں بیٹے کا اغواء کا معمہ حل کر کے اصل قاتل جوائی اور بہنوئی کو دھر لیا ،عوام کا رنگوپولیس کو زبردست انداز میں خراج تحسین ، تھانہ رنگو میں مردان کے رہائشی عمران نامی شخص نے ایس ایچ او کو درخواست دی کہ میں محلہ اقراء ٹائون مردان کا رہائشی ہوں اور ٹیلرنگ کا کام کرتا ہوں اور میری دو بہنیںسبینہ بی بی اورشازیہ بی بی صاحبہ تحصیل حضرو کے گائوں میں شادی شدہ ہیں اور ان کے دونوں خاوند کباڑ کا کام کرتے ہیںمورخہ 25/4/2019کومیری ماںروبینہ بی بی اور میرابھائی ابرار میری ہمشیرہ سبینہ بی بی جو ہمارے ہاں مردان آئی ہوئی تھی اس کو اپنے گھر صا حبہ چھوڑنے آئے ،تو شام 4 میرے بہنوئی نیاز گائوں صاحبہ کے سٹاپ پر میری ماں اور بھائی مردان گھر جانے کے لئے بٹھانے آیا لیکن میری ماں کاموبائل نمبر 03407257991مسلسل بند ہو گیا ، اور میری ماں اور بھائی شام ڈھل گئی اور گھر نہیں پہنچے جس پرہمیں اپنے بہنوئی پر پورا شک اور یقین ہے کہ میری ماں اور بھائی کو بہنوئی نیاز محمدنے اپنے ساتھیوں سے مل کر اغوا ء کیا ہے ، عمران کی مدعیت کی درخواست پر پولیس نے مورخہ 25/4/201کو دفعہ 363/365کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزم نیاز کو پکڑنے کے لئے چھاپے مارنے شروع کر دئیے ،ڈی پی او اٹک شہزاد ندیم بخاری کی خصوصی ہدائیت پرایس ایچ او عاطف حسین نے تفتیشی حبیب الرحمن ASI کو فوری ٹارگٹ دیا کہ ملزم نیاز محمد کو فوری گرفتا ر کر یں جس پر تفتیشی حبیب الرحمن ASIہمراہ ملازمان نے ملزم نیاز محمدکو بڑی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم نیازمحمد کو ڈرامائی انداز میں گرفتا کر لیا ،ملزم نیاز نے تفتیش کے دوران یہ اعتراف کیا کہ میں نے اپنی ساس اروبینہ بی بی ور سالے ابرار کو قتل کر کے نیک محمد کے گھران کی نعشیں صحن میں دفن کر دی ہیں ،ملزم کی نشاندہی پر نیک محمد گائوں صاحبہ کے گھر سے ماں اور بیٹے کی ن دفن شدہ نعشین نکال کر اپنی تحویل میں لی اور نعشوں کا پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد نعشیں ورثاء کے حوالے کیں اور پولیس تفتیش کا گہرہ وسیع کرتے ہوئے ملزم نیاز محمد کے خلاف 302اقدام قتل کے دفعات میں مذید اضافہ کرکے تفتیش شروع کر دی ، مذید انکشاف کی متوقع ہے ۔اس واقع پر ایس ایچ او تھانہ رنگو عاطف حسین نے ’’صحافیوں ‘‘ سے ملاقات کے دوران بتایا ، کہ یہ ظلم کی انتہا ہوئی ہے، ہم میرٹ پر تفتیش کر رہے ہیں ، انشاء اللہ ملزم نیاز محمد کو اور اگر اس کیس میں اس کے ساتھ اور بھی کوئی ساتھی ملوث ہوئے تو ہم کڑی سے کڑی سزا دلوائیں گے ۔
