تبدیلی نے عوام کو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کر دیا ہے:شیخ آفتاب احمد 

اٹک :مرکزی رہنمامسلم لیگ ( ن ) سابق وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے کہا ہے کہ موجودہ حکمران جیسے تیسے گھوڑے پر تو بیٹھ گئے ہیں مگر اب ان سے گھوڑے کی لگام مہنگائی بے روزگاری اور موجودہ معاشی بحران کے سبب سنبھالی نہیں جارہی ہے اب انہیں کچھ دکھائی بھی نہیں دے رہا اور اس بات کا اعتراف بھی کرنے سے ڈر رہے ہیں نئے پاکستان کا نعرہ لگانے اور اس کو عملی جامہ پہنانے والوں کو ان دس ماہ میں کیا فائدہ ہوا یہ ابھی تک سوالیہ نشان ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس تبدیلی نے عوام کو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کر دیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ضلعی صدر مسلم لیگ ( ن ) محمد سلیم شہزاد ، ضلعی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر میاں راشد مشتاق ، سٹی صدر شیخ محمود الہٰی ، تحصیل صدر اٹک شاہنواز شانی اور جنرل سیکرٹری ملک ذیشان اشفاق بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ ملک میں جمہوری تسلسل چلتا رہے اور عوام کے منتخب کردہ نمائندے اقتدار سنبھالیں لیکن جب نا اہل لوگوں کو اقتدار دیا جائے گا تو پھر ہر چیز متاثر ہو گی حالانکہ ملک صحیح سمت میں ترقی کے سفر پر گامزن ہو چکا تھا آج گیس ، بجلی ، پیٹرولیم مصنوعات ، ادویات سمیت روزمرہ استعمال کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں ، زرمبادلہ کے ذخائر ، غیر ملکی سرمایہ کاری میں تاریخ ساز کمی ملکی معیشت میں تباہی کا باعث ہے شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ ایسے حالات میں موجودہ حکومت کا ایک وزیر کہہ رہا تھا کہ اتنی نوکریاں آنے والی ہیں کہ لوگ کم پڑ جائیں گے ابھی تک تو ایسے حالات نظر نہیں آ رہے وزیراعظم کا دورہ چین بھی مایوس کن رہا وہاں پر ہونے والی تقاریر حوصلہ افزا نہیں ہیں میں عمران خان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا جب وہ اقتدار میں آئے تو کیا مہنگائی کی صورتحال ایسی تھی جو آج ہے جس کی وجہ سے عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں اس تبدیلی کا نعرہ لے کر آپ نے قوم کو دھوکا دیا سابقہ حکومتیں تو ماضی کا حصہ بن چکی ہیں اب تو آپ برسر اقتدار ہیں آپ نے قوم سے جو وعدے کیے تھے کیا یہ ان کی تعبیر ہے میں نے محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف کے ساتھ 30 سال کام کیا ان کے دل میں جو قوم کے لئے درد ہے اور جو تعمیری جذبہ ہے وہ ناقابل فراموش ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں امن کے لئے تمام سیکورٹی اداروں نے بہت قربانیاں دی ہیں لیکن اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلا یا جا سکتا کہ محمد نواز شریف کی سربراہی میں ہی اس امن کے لئے اقدامات شروع کئے گئے اس لئے کہ فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہوتا ہے اداروں کا کام تو اس پر عملدرآمد ہوتا ہے خصوصاً کراچی کے امن میں بحالی کے لئے محمد نوازشریف نے اولین ترجیحات میں اقدامات کئے جس کی بدولت آج وہ روشنیوں کا شہر جگمگا رہا ہے ملک میں جب امن کی بات ہو ، موٹر وے کی بات ہو یا ایٹمی طاقت کا ذکر ہو تو کھلے دل سے محمد نواز شریف کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے انتہائی قابل افسوس ہے کہ وزراء محمد نواز شریف کی ضمانت پر رہائی کے حوالہ سے جن الفاظ میں ذکر کرتے ہیں وہ ان کی تربیت کی عکاسی کرتا ہے حالانکہ جب محمد نواز شریف کو سزا سنائی گئی اس وقت وہ اپنی بیمار اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر اپنی بیٹی کے ساتھ جیل جانے کے لئے ملک میں واپس آ گئے تھے اب جب کہ ان کی بیماری کے پیش نظر ضمانت کی درخواست کورٹ میں دائر کی گئی ہے تو یہ کہنا کہ وہ جیل سے گھبرا گئے ہیں غیر اخلاقی بیان ہے ۔