حضرو: قاضی اکبر نے نہیں امین اسلم نے گیس منظور کروائی:حاجی مشتاق میر

اٹک :مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کے با اعتماد ساتھی و کوآرڈینیٹر برائے سوئی گیس ، وائس چیئرمین یونین کونسل شینکہ سکوارڈن لیڈر ( ر ) حاجی مشتاق میر نے قاضی احمد اکبر کی جانب سے سوئی گیس منظوری کے دعوے کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں حلفاً کہتا ہوں کہ سیدن گاو¿ں سے جتیال کو ملانے کے پروپوزل کو تین بار رد کیا گیا تھا جس پر میں نے یہاں کے مکینوں کے مطالبات کے پیش نظر ملک امین اسلم کے احکامات پر پروپوزل تیار کیا جسے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے منظور کروایا ہے سیدن ، جتیال ، ویرو ، تاجہ باجہ اور کامرہ کی آبادی کو درپیش سوئی گیس کے کم پریشر کے مسئلہ کے حل کیلئے درخواست دینے سے لے کر منظوری اور افتتاح تک ایک ایک دن محنت کی ہے لاہور سے سروئیر کو بلا کر ان سے ارجنٹ تصدیقی مرحلہ مکمل کروایا اور 25 اپریل کو ٹینڈر اوپن ہوا اس طرح یہ کام ملک امین اسلم کی منظوری سے پایہ تکمیل کو پہنچا جس کے جلد افتتاح کا ہم نے اعلان کیا تو ملک امین اسلم کے وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ دورہ چین اور غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوئی گیس افسران کے بتانے کے باوجود کہ یہ ملک امین اسلم کا منصوبہ ہے ان سے بات کریں ضلعی صدر تحریک انصاف قاضی احمد اکبر نے اپنا کریڈٹ لینے کیلئے جلد بازی میں افتتاح کی کوشش کی اس حوالہ سے ہم نے اپنا کردار ادا کیا اور قاضی احمد اکبر کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اپنا گاو¿ں اور یونین کونسل ہے اور ہمارا ارادہ ہے کہ تحریک انصاف اور عوام کے مفاد کیلئے ہم اکھٹے ہو جاتے ہیں جس پر قاضی احمد اکبر نے کہا کہ میں کال پر آپ کو کنفرم کر دوں گا مگر انہوں نے مجھے کال نہ کی اور ملک امین اسلم کے ساتھ مل کر چلنے کا موقع ضائع کرکے اپنا اور پارٹی کا نقصان کیا مشتاق میر نے کہا کہ تحریک انصاف کے نظریاتی کارکنان بتائیں کہ ہم اس سے زیادہ اور کیا کر سکتے ہیں مگر قاضی احمد اکبر نے خود موقع ضائع کیا ورنہ آج ملک امین اسلم اور قاضی احمد اکبر مل کر افتتاح کرتے۔