امین اسلم بھی میجر کی چھتری تلے ہی ایم این اے بنا: ملک غلام حسین

اٹک : اٹک کی سیاسی تاریخ کو مسخ نہیں کیا جاسکتا بیان بازی اور الزام تراشی کے ذریعے حقائق تبدیل نہیں کئے جاسکتے اصل حقیقت اٹک کے عوام بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ امین اسلم زندگی میں پہلی اور آخری بار ایم این اے بھی 2002 میں میجر طاہر صادق کی چھتری تلے ہی بنا تھا اس کے بعد آزاد بھی اور پارٹی ٹکٹ پر بھی دونوں طرح قسمت آزمائی کی لیکن دونوں مرتبہ عبرتناک شکست اس کا مقدر ٹھہری ان خیالات کا اظہار سینئر رہنما تحریک انصاف و سابق چیئرمین یونین کونسل کھنڈا ملک غلام حسین نے میڈیا سے بات چیت میں کیا ہے انہوں نے کہا کہ اگر انکی بات کو دلیل مان لیا جائے تو میجرطاہرصادق محض تحریک انصاف کے ووٹ بینک پر ممبراسمبلی بنے لیکن اسی دلیل کے مطابق ملک امین اسلم 2013 کے انتخابات میں بلے کے نشان پر کیوں ہارا تھا جب ہرطرف تحریک انصاف کی ہوا تھی تو اس وقت پارٹی ٹکٹ ہوتے ہوئے بھی شکست سے دوچار ہوا تھا حالانکہ اس وقت حلقہ این اے 55 صرف تحصیل اٹک اور حضرو پر مشتمل تھا اگر اٹک کے اندر ووٹ صرف پارٹی کے تھے تو ملک خرم جسے ملک امین اسلم نے اپنے ہاتھ سے ٹکٹ بانٹا وہ کیوں بری طرح ہارا جو سیٹ 2 ماہ قبل میجرطاہرصادق 65 ہزار کی لیڈ سے جیتے تھے ملک غلام حسین نے کہا کہ ضلع چیئرمین کے الیکشن میں تحریک انصاف کے 6 ممبران کی سپورٹ میجر طاہر صادق کے امیدوار کو حاصل تھی جبکہ لیڈ 22 ووٹوں کی تھی یہ کہنا کہ یہ نشست پارٹی کی بدولت جیتی گئی حقائق کے منافی ہے اصل سوال یہ ہے کہ اگر جنرل الیکشن 18 کے اندر عمران خان کو ملک امین اسلم پر اعتماد ہوتا کہ وہ یہ الیکشن جیت سکتا ہے تو وہ ٹکٹ میجرطاہرصادق کو دینے کی بجائے ملک امین اسلم کو دیتا دراصل عمران خان کا ملک امین اسلم پر ایک عدم اعتماد تھا اور بعدازاں ضمنی الیکشن میں اگر میجرطاہر صادق حلقہ این اے 55 کی نشست خالی کر دیتے تو سلیکٹڈ مشیر یہ نشست ایک لاکھ ووٹوں کے مارجن سے ہارتے جو تحریک انصاف کی مزید جگ ہنسائی کا سبب بن سکتا تھا۔
