کامرہ کینٹ :رمضان المبارک شروع ہوتے ہی خود ساختہ مہنگائی میں اضافہ

اٹک:رمضان المبارک شروع ہوتے ہی کامرہ کینٹ میں مزید خود ساختہ مہنگائی کردی گئی اور عوام سراپا احتجاج ہے ،دال ،چاول ،گوشت ودیگر سمیت اور فروٹ کو تو نہ پوچھیں ،سبزیوںکی قیمتوں کو بھی پَر لگ گئے،سبزیوں اور فروٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کامرہ ،قطبہ موڑ کے شہر یوں کے ہوش اُڑا دئیے ، ایک طرف تو فروٹ ،گوشت ،دالیں ،چاول اور سبزیاں آسمان سے باتیں کرتی تو دوسری جانب دوکانداروں کی من مانی کی وجہ سے عوام مہنگی سبزیاں ،فروٹ ودیگر اشیاء ضروریات خریدنے پر مجبور ہیں ،انتظامیہ صرف آفس میں بیٹھ کر اے سی کا مزے لے رہے ہیں اور خود لاکھوں کے تنخوائے لیکر آرام فر مارہے ہیں اور بازاروں کا ریٹ لسٹ چیک کرنے کا زحمت بھی نہیں کرتے اور دوکانداروں کو کھلی چھٹی دی رکھی ہے اور آگے سے دوکاندار حضرات خود ساختہ مہنگائی کرکے خوب عوام کے جیب خالی کررہے ہیں ، کسی کے بھی پاس ریٹ لسٹ آویزاں نہیں ہوتی اگر مل بھی جائے تو اسی ریٹ لسٹ پر فروخت نہیں کی جاتی، 40روپے فروخت کی جانیوالے ٹماٹر اب 80میں 25روپے فروخت کی جانیوالے آلو 50,60میں بھنڈی 150،لیمو ں کی توبات ہی نہ کریں 500روپے کلو،گوشت بڑا550،چھوٹا گوشت 800،کیلا 180روپے درجن،تربوز50,60،خربوزہ 120,100روپے کلو ،سیب 200,400روپے کلو کے حساب سے فروخت کیے جارہے ہیں سبزی منڈی و فروٹ منڈی میں تو رش ہے لیکن مہنگائی پر قابو پانے والے مارکیٹ سے غائب نظر آئے ،عوام کا کہنا ہے کہ ایک طرف انتظامیہ کہ نہ ہونے سے دوکاندار من مانی کر رہے ہیں تو دوسری طرف سرکاری نرخ بھی اتنے زیادہ ہیں کہ غریب آدمی خریداری نہیں کرسکتا ،عوام کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے حکومتی دعوے صرف دعووں کی ہی حد تک ہیں ۔