سنجوال روڈ پر قتل ہونے والے نوجوان کا مقدمہ درج

اٹک: تھانہ صدر اٹک میں مسماۃ ف ن ساکن فقیر آباد تحصیل و ضلع اٹک نے بیان کیا کہ عرصہ قریب 3 سال قبل میرے بیٹے خضر حیات کے خلاف اجمل محمود ولد یونس ساکن فقیر آباد نے تھانہ صدر اٹک میں اقدام قتل کا مقدمہ درج کروایا تھا جس میں میرا بیٹا جیل میں بند ررہا۔ اب قریب 20/25 دن قبل رہا ہو کر گھر آیا۔امروز میں اپنے بیٹے خضر حیات بعمر قریب 32/33 سال کے اپنے میکے گھر بولیانوال جا رہی تھی کہ جب بوقت 1:45 بجے دن جب ہم سنجوال روڈ T چوک پر سوزوکی سے اترے اور پیدل بولیانوال کی طرف جا رہے تھے کہ ا سی دوران پیچھے سے کار نمبری 117 میں مسمیان اجمل محمود، شوکت، ارشد، شاہد پسران یونس سکنائے فقیر آبادآئے ارشد اور شاہد نے للکارتے ہوئے کہا کہ تمھیں اجمل پر قاتلانہ حملہ کرنے اور عدالت سے اپنی جان چھڑوانے کا مزہ چھکاتے ہیں اور ساتھ ہی ارشد اور شاہد نے مجھے پکڑ لیا جبکہ اجمل اور شوکت نے اپنے اپنے پسٹلوں سے بانیت قتل سیدھے فائر میرے بیٹے خضر حیات پر کیے۔جو اسے سر اور جسم کے دیگر حصوں پر لگے۔اسی دوران عبدالمناف ولد شیر جنگ ساکن بولیانوال بھی واقع ہذا بچشم خود دیکھتے ہوئے موقع پر آ گیا اور اجمل محمود وغیرہ ملزمان اپنی کار پر بیٹھ کر موقع سے بھاگ گئے۔بیٹے خضر حیات کو ہسپتال پہنچانے کے لیے کسی گاڑی وغیرہ کی کوشش کرتے رہے جو اسی دوران زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہو گیا۔اجمل محمود وغیرہ نے سابقہ دشمنی کی بناء پر میرے بیٹے خضر حیات کو اسلحہ آتش کے فائر کر کے ناحق قتل کیا ہے۔جس پر تھانہ صدر اٹک کے ایس آئی عظمت حیات نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔
