باہتر،عدالتی کمیشن کو مسلح افراد کی دھمکیاں،مقدمہ درج

باہتر:باہتر،عدالتی کمیشن کو مسلح افراد کی دھمکیاں،12افراد کے خلاف مقدمہ درج،3 گرفتار باقی افراد کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے، گرفتار شدہ ملزمان سے مزید تفتیش کے لیے عدالت کی طرف سے تین روزہ ریمانڈجاری۔تفصیلات کے مطابق محمد اقبال اور ممتاز احمد کے درمیان زمین کے تنازعہ پر کیس چل رہا تھا جِس پر سول جج صاحب فتح جنگ کی طرف سے عدالتی کمیشن مقرر کیا گیا کمیشن کے سربراہ سردار محمد علی ایڈووکیٹ اپنے ڈرائیور کے ہمراہ موقع کی صورتحال دیکھنے کے لیے موضع تربیٹھی پہنچے تو متنازعہ زمین پر موجود ممتاز احمد اپنے بیٹے آفتاب احمد اور دیگر 10 سے 12 افراد کے ہمراہ مسلح کلاشنکوف موجود تھا اور متنازعہ زمین پر بلڈوزر سے کام جاری تھا جونہی سردار محمد علی ایڈووکیٹ اپنے گاڑی سے نیچے اُترے تو ممتاز احمد اور اُس کے بیٹے آفتاب احمد نے اُن کی طرف اسلحہ تان کر للکارتے ہوئے کہا کہ فوراََ بھاگ جاؤ یہاں سے نہیں تو سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جاؤ بعد ازاں مسلح افراد سردار محمد علی ایڈووکیٹ کے ڈرائیور اسرار شاہ سے بھی گلو گیر ہوئے اور تھپڑ مارے کمیشن کے سربراہ نے فاضل عدالت کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا جِس پر عدالت ہذٰا نے ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کے لیے پولیس کو احکامات صادر فرمائے۔ جن کی روشنی میں ایس ایچ او تھانہ باہتر سید مظہر شاہ کی خصوصی ہدایت پر محمود احمد اے ایس آئی نے دیگر ملازمین کے ہمراہ موقع پر پہنچ کر مسمی مہتاب احمد،آفتاب احمد اور زمرد کو گرفتار کر لیا جبکہ باقی ماندہ ملزمان کی تلاش جاری ہے یاد رہے کہ متذکرہ بالا بااثر ملزمان نے چند روز قبل بھی اِسی زمین سے منسلک زمین پر قابض ہونے کے لیے مقامی آبادی کی خاتون اور اُس کے رشتہ داروں کو زدو کوب کرتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا تھا پولیس نے عدالت سے ملزمان کا تین روزہ ریمانڈ حاصل کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
