ضلع اٹک کی پسماندہ تحصیل جنڈ نئے پاکستان کی ’’تبدیلی ‘‘ کی منتظر

جنڈ(صدیق فخر سے) ضلع اٹک کی پسماندہ تحصیل جنڈ کو ’’تبدیلی‘‘ بھی نہ بدل سکی، ہر دور حکومت کی طرح بڑے بڑے دعوے کرنے والی حکومتی جماعت تحریک انصاف نے بھی پسماندہ تحصیل سے نظریں پھیر لیں، تحصیل جنڈ کی محرومیوں کے ازالہ کی امید رکھنے والے عوام میں مایوسی،وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزردار و دیگر حکومتی منتخب نمائندوں، مشیروں و صوبائی وزیر سے عوام کا تحصیل جنڈ کیلئے خصوصی پیکج کے اعلان کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق ضلع اٹک کی پسماندہ تحصیل جنڈ کے باسیوں کو الیکشن سے پہلے تبدیلی کے نعروں کے چرچے کی وجہ سے ایک امید تھی کہ شاید یہ تبدیلی ہماری تحصیل کو بھی تبدیل کر دے اور ہم بھی نئے پاکستان کا حصہ بن جائیں لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود حکومت کی طرف سے باقی حکومتوں کی طرح ہی تحصیل جنڈ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ تبدیلی کا خواب دیکھنے والوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔ منتخب حکومتی نمائندے جو علاقے کی پسماندگی کو ختم کرنے کیلئے اہم کردار ادا کر سکتے تھے وہ آپس کی گروپ بندیوں کی وجہ سے بیان بازیوں میں مصروف نظر آتے ہیں جبکہ عوام کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ حلقہ این اے 56 سے مختلف سیاسی شخصیات کے وزیراعظم عمران خان کے انتہائی قریبی تعلقات کے باوجود کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکے اور ان کی کارکردگی صرف فوٹو سیشن تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ تحصیل جنڈ تحریک انصاف کی حکومت میں بھی لاوارث اور یتیم نظر آرہی ہے۔ اہلیان تحصیل جنڈ نے وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزردار، ممبر قومی اسمبلی میجر(ر) طاہر صادق، ممبر صوبائی اسمبلی ملک جمشید الطاف، مشیر وزیراعظم ملک امین اسلم، صوبائی وزیر کرنل (ر) ملک محمد انور،چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی پنجاب ٹو سید یاور بخاری ، مشیر وزیراعظم زلفی بخاری سے مطالبہ کیا ہے کہ تبدیلی کا رخ تحصیل جنڈ کی طرف بھی موڑا جائے اور علاقے کی پسماندگی ختم کرنے میں کردار ادا کیا جائے، اس سے پہلے کہ مہنگائی اور بے روز گاری کی وجہ سے مایوسی عوام یہ نہ ہو کہ ضمنی الیکشن کی طرح آمدہ بلدیات الیکشن میں بھی تبدیلی کو مسترد نہ کر دیں۔
