ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ بذریعہ 'ای کورٹس مقدمات کی سماعت

اسلام آباد: ملکی عدالتی نظام باقاعدہ طور پر پہلی مرتبہ جدید خطوط پر استوار ہو گیا، اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت کی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ ملکی تاریخ میں پہلی بار ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت کر رہا ہے اور اعلیٰ عدالت کو 4 مقدمات کی سماعت بذریعہ ویڈیو لنک کرنا ہے۔ ابتدائی طور پر ای مقدمات کی سہولت اسلام آباد ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے لیے دستیاب ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آئی ٹی کمیٹی کے ممبران جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مشیر عالم کو خراج تحسین پیش کیا اور چیئرمین نادرا اور ڈی جی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ ایک بڑا قدم ہے، 'ای کورٹ سے کم خرچ سے فوری انصاف ممکن ہو سکے گا، دنیا بھر میں پاکستان کی سپریم کورٹ میں ہی 'ای کورٹ سسٹم کا پہلی مرتبہ آغاز ہوا ہے۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ 'ای کورٹ سے سائلین پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا، اس سسٹم کو پورے پاکستان تک پھیلائیں گے اور اگلے مرحلے میں کوئٹہ رجسٹری میں ای کورٹ سسٹم شروع کریں گے۔
ای کورٹ سسٹم کے پہلے مقدمے کی سماعت
سپریم کورٹ اسلام آباد سے کراچی رجسٹری میں ویڈیو لنک کے ذریعے قتل کیس کے ملزم نور محمد کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی جس کے دوران ملزم کے وکیل یوسف لغاری ایڈووکیٹ نے درخواست پر دلائل دیے۔عدالت نے قتل کے ملزم نور محمد کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی جس کے خلاف پولیس اسٹیشن شاداب پور میں 2014 میں قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔