ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک میں ڈاکٹروں کا نارواسلوک

اٹک : ڈاکٹر کو کسی دور میں قوم کا مسیحا کہا جاتا تھا لیکن آج لوگ ڈاکٹر کو ڈاکو،قصائی، سنگدل، ظالم و دیگرکئی ناموں سے پکارتے ہیں رہی سہی کسر آج کے ینگ ڈاکٹرز کی غنڈہ گردی نے پوری کردی اسی وجہ سے آج لوگ ڈاکٹروں کو مسیحا ماننے کیلئے تیار نہیں سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کارویہ مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ انتہائی توہین آمیز ہوتا ہے ڈاکٹرز کی اسی بدسلوکی اور مجرمانہ غفلت برتنے پر سالانہ ہزاروں لوگ موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں لیکن یہ مسیحا ہیں کہ سدھرنے کا نام نہیں لیتے اٹک کا اسفندیار بخاری ڈسٹرکٹ ہسپتال بھی ملک کے دیگر سرکاری ہسپتالوں کی طر ح کسی سے پیچھے نہیں ڈاکٹرز کی مریضوں سے بدسلوکیاں اور فرائ ض سے لاپرواہی اور غفلت برتنے کے متعدد واقعات موجود ہیں ڈاکٹرز کے توہین آمیز رویے پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی و ڈسٹرکٹ رپورٹر کیپیٹل ٹی وی ندیم حیدر نے چیئرمین اٹک پریس کلب رجسٹرڈ ندیم رضاخان اور جنرل سیکرٹری الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن اٹک لیاقت عمر کو ایک خصوصی ملاقات کے دوران بتایا کہ 24 مئی شام 4 بجے کے بعد اسفند یار ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک آیا اور میرے ساتھ میرے بہنوئی ناصر محمود جن کی طبیعت ۱ انتہائی ناساز تھی شدید چکر اور الٹیاں آرہیں تھیں جن کو ایمر جنسی میں موجود ڈاکٹرز کے پاس لے گیا ڈاکٹریاسر، ڈاکٹر وجاہت اور ڈاکٹر قسام ڈیوٹی پر موجود تھے مریض کی طبیعت انتہائی ناساز دیکھ کر ڈاکٹرز نے ان کو ایمرجنسی وارڈ میں لے کر جانےکا کہا ایمرجنسی وارڈ میں موجود نرسنگ سٹاف نے ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد کہا کہ فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں جب میں ڈیوٹی ڈاکٹرز کے کمرہ میں پہنچا تو تینوں ڈاکٹرز خوش گپیوں میں مصروف تھے ڈاکٹر یاسر سے درخواست کی جنہوں نے خود مریض کی حالت انتہائی تشویشناک دیکھ کر ایمرجنسی وارڈ میں جانے کامشورہ دیا تھا مجھے کہا کہ میں کچھ دیر تک آتا ہوں تقریباً نصف گھنٹے کے درمیان میں تین بار ڈاکٹر یاسر کو بلانے گیا مگر وہ مریض کو چیک کرنے نہ آئے اور مجھے کہا کہ آپ کے مریض کو کان کی تکلیف کی وجہ سے متواتر شدید چکر آرہے ہیں میں آپ کو ای این ٹی سپشلسٹ کے پاس ریفر کر رہا ہوں جس پر میں نے استفسار کیا کہ ڈاکٹر آپ نے مریض کو چیک کیے بغیر مرض کی تشخیص کیسے کر دی جس پر ڈاکٹر یاسر کا جواب تھا کہ بلڈ پریشر اور بخار نارمل ہیں تو کان کی تکلیف کے علاوہ شدیدچکر آنے کی کوئی اور وجہ ہو ہی نہیں سکتی میرے زیادہ اسرار کرنے پر ڈاکٹر یاسر نے مجھے ڈاکٹر اقرائ فیاض کے پاس بھیج دیا ڈاکٹر اقرائ نے بہت بہتر انداز سے مریض کا چیک اپ کیا اورٹیسٹ اور میڈیسن تشخیص کر دیں اس دوران میں ڈاکٹر یاسر، ڈاکٹر وجاہت، ڈاکٹرقسام کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ یہ آپ کی ڈیوٹی میں شامل ہے کہ آپ ایمر جنسی میں آنے والے مریض کا خود معائنہ کریں جبکہ آپ نے ایسا نہیں کیا اور میرے متعدد بار بلانے کے باوجود بھی آپ مریض کا چیک اپ کرنے نہیں آئے جس پر ڈاکٹر یاسر اور ڈاکٹر وجاہت میرے ساتھ انتہائی بدتمیزی کے لہجے میں بحث و تکرار شروع کر دی اور مجھے کہا کہ آپ کے مریض کا بلڈ پریشر اور بخار نارمل ہے جو کہ نرسنگ سٹاف نے چیک کر لیا ہے تو اب ہم اس کا اور کیا معائنہ کر سکتے ہیں ڈاکٹر وجاہت نے انتہائی بدتمیزی کرتے ہوئے مجھے کہا کہ کیا اب ہم مریض کا دماغ کھول کر چیک کریں کہ اس کو چکر کیوں آرہے ہیں جس پر میں نے کہا کہ میں آپ کے ناروا سلوک لاپرواہی اورغفلت برتنے کی شکایت کروں گاتو ڈاکٹر یاسر اور ڈاکٹر وجاہت نے مجھے کہا کہ آپ سے جو ہو سکتا ہے آپ کر لیں ہم ایم ایس ڈاکٹر کاشف کی ہدایات پر ہی عمل پیرا ہیں انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے مطالبہ کیا ہے کہ اسفندیار ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک میں تعینات ان ڈاکٹرزکے خلاف سخت محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے اوربھاری جرمانے کے ساتھ ساتھ ان کی رجسٹریشن بھی منسوخ کی جائے تاکہ دیگر ڈاکٹرز اور عملہ آئندہ آنے والے مریضوں کے ساتھ اس بدتمیزی سے پیش نہ آئیں انہوں نے اس سلسلہ میں تحریری درخواست سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر سہیل اعجاز اور ایم ایس اسفندیار بخاری ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈاکٹر کاشف کو دے دی گئی ہیں جس پر انکوائری تشکیل دے دی گئی ہے۔