جنڈ:عیدالفطر پر دریائے سندھ میں نہاتے چار افراد ڈوب گئے 

جنڈ: دریائے سندھ میں نہاتے ہوئے چار افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے پہلا واقعہ مکھڈ کے قریب ایک بد قسمت نوجوان جس کا نام آصف علی ولد محمد تاج بتایا جاتا ہے اپنی فیملی کے ہمراہ سیر و تفریح کیلئے آیا ہوا تھا نہانے کی غرض سے پانی میں اترا کہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور گہرے پانی میں چلا گیا جہاں پر ڈوب کر جاں بحق ہو گیا جس کی نعش کو نکال لیا گیا جبکہ دوسرا واقعہ دریائے سندھ پر خوشحالگڑھ پل کے قریب پیش آیا جس میں دو نوجوان مسمیان فہد ولد سخی اور فیصل ولد عبدلعزیز سکنائے جنڈ بتاتے جاتے ہیں اور ان کی عمریں سترہ ،اٹھارہ سال بتائی گئی ہیں نہانے کے دوران گہرے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے ہیں جن کی نعشیں نکال لی گئی ہیں۔  تیسرا افسوسناک واقعہ عید کے دوسرے روز ناڑہ کے قریب پڑی دریائے سندھ پر ایک نوجوان کرنٹ لگنے سے وہ بے ہوش ہو گیا جسے ہسپتال لے جایا گیا لیکن جانبر نہ ہو سکا اور چل بسا۔ نوجوانوں کی میتیں گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا ہر آنکھ اشکبار تھی ہر سال گرمیوںاورعید کے موقع پر دریائے سندھ پر سیر و تفریح کیلئے آنے والے نوجوان گرمی کی شدت کو کم کرنے کیلئے نہانے کی غرض سے پانی میں اترتے ہیں اور خونی دریا کی نظر ہو جاتے ہیں ڈی پی او اٹک کی ہدایت پر دریائے میں نہانے پر پابندی لگانے کے باوجود عمد درآمد نہ کرنا امواات کا سلسلہ جاری ہے اس سلسلہ میں اٹک کے مقام پر دریائے میں نہانے والے افراد کے خلاف کریک ڈائون کی کیا گیا ہے عوامی و سماجی حلقوں نے ڈی پی او اٹک سے اپیل کی ہے کہ گرمیوں اور عید کے موقع پر دریا پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کی خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔