عقیدہ ختم نبوت نصاب سے حذف نہیں کیا جاسکتا،قاری اسماعیل

حضرو:پنجاب کے تعلیمی اداروں میں جماعت نہم کے مطالعہ پاکستان کے نصاب میں عقیدہ ختم نبوت کے متعلق الفاظ کو حذف کرنا مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی ناپاک جسارت اور انتہائی قابل مذمت عمل ہے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ اس گھناونی سازش کے مرتکب افراد اور اس سازش میں ملوث اداروں کے خلاف فی الفور کاروائی کرے کیونکہ ختم نبوت پر ایمان اور حضرت محمد  ﷺ کو آخری نبی ماننا ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل حضرو کے امیر قاری محمد اسماعیل اور دیگر راہنماؤں مولانا حافظ نثار احمد الحسینی، شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق محسن، مولانا سعید الرحمان رحمانی، مولانا محمد فرقان، مولانا محمد مسعود اختر ضیاء، مولانا حمید الحسن، مولانا حبیب الرحمان اور دیگر راہنماؤں نے خطاب کیا۔مطالعہ پاکستان کی کتاب میں ختم نبوت کے متعلق اہم الفاظ کو حذف کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کیا ان راہنماؤں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی اور جمہوری ملک ہے اور اس میں مسلمان بچوں کی تعلیم و تعلم میں اور پڑھائے جانے والے نصاب میں ایسا مواد ہر گز شامل نہیں کیا جاسکتا جو اسلام کے بنیادی عقائد سے متصادم ہو اور پہلے سے سلیبس میں شامل عقائد اسلام کے بنیادی نکات جس میں عقیدہ ختم نبوت بنیادی حیثیت کا حامل ہے اس کو نصاب سے حذف بھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسلام کے بنیادی عقائد کو نصاب سے خارج کیا جاسکتا ہے کیونکہ پاکستان کے آئین میں شامل ہے کہ جو شخص حضرت محمد  ﷺ کو اللہ کا آخری رسول نہ مانے اس کا دائرہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں ان راہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اس گھناؤنی سازش میں ملوث افراد کے خلاف جد از جلد کاروائی کی جائے کیونکہ دین اور ملک دشمن قوتوں کی اس حرکت سے اسلامیان پاکستان کے دینی اور ملی جذبات سے کھیلنے کی ناپاک کوشش کی گئی ہے جو کہ ہر لحاظ سے قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے۔