راولپنڈی کوہاٹ اور فتح جنگ پنڈی گھیب روڈ پر توجہ نہ دینے پر بڑے احتجاج کا خدشہ

جنڈ(صدیق فخر سے)خونی شاہراہ ترنول سے جنڈ اور فتح جنگ سے پنڈی گھیب پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) ،مسلم لیگ (ق) کی حکومتوں کے بعد تحریک انصاف کی حکومت میں بھی نظر انداز،حادثات میں سینکڑوں ضائع ہونے والی جانیں بھی حکومت کی توجہ حاصل نہ کر سکیں،صوبائی، وفاقی وزراء اور مشیروں کا ان شاہراہوں پر سفر بھی روڈ کی خستہ حالی بارے متوجہ نہ کر سکا، دیگر حکومتوں کی طرح ’’تبدیلی‘‘ کی حکومت میں بھی این اے 56 تبدیل نہ ہونے کے امکانات، حکومتوں کی طرف سے مسلسل نذر انداز کی وجہ سے عوام میں شدید احتجاج کا لاوہ پکنے لگا، دونوں سڑکوں کی صورتحال پر توجہ نہ دی گئی تو عوام کی طرف سے شدید رد عمل کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہر دور حکومت کی طرح تحریک انصاف کی حکومت میں این اے 56کے ساتھ انصاف نہیں کر رہی اور حلقے کے اہم مسئلہ راولپنڈی کوہاٹ روڈ اور فتح جنگ پنڈی گھیب روڈ کو دو رویہ نہ کیا جا سکا نہ ہی سڑک کو مرمت کر کے حالت بہتر کی جا سکی سڑکوں میں ہونے والے گڑھوں کی وجہ سے حادثات کا ہونا روز کا معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے کئی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فتح جنگ سے پنڈی گھیب کا ورک آرڈ کئی ماہ سے حکومت کی ایک اہم شخصیت نے روکوا رکھے ہے جبکہ راولپنڈی کوہاٹ روڈ پر بھی معاون خصوصی وزیراعظم زلفی بخاری، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے اعلانات تک ہی محدود رہی اور حکومت کے ایم این اے میجر طاہر صادق اور اپوزیشن کے ایم این اے ملک سہیل خان کمڑیال کی خصوصی دلچسپی کی وجہ سے بھی حکومت اس اہم مسئلہ کو مسلسل نذر انداز کر رہی ہے۔ اس حلقے سے حکومت کے دو ایم پی ایز جن میں سے ایک صوبائی وزیر کی نشست پر براجمان ہیں کے باوجود کوئی اس شاہرائوں کے بارے میں توجہ نہ دی جا سکی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت نے بھی بے انصافی جاری رکھی تو حلقے کی عوام کی طرف سے بڑے اور شدید احتجاج کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، عوام میں احتجاج کی چہ میگوئیاں جاری ہیں اور یہ احتجاج اپنے اپنے بس سٹاپ سے شروع ہو کر کسی بڑی تحریک کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔یاد رہے کہ اس سلسلے میں حلقہ این اے 56 سے ممبر قومی اسمبلی ملک سہیل خان کمڑیال قومی اسمبلی میں بھی آواز اٹھا چکے ہیں ۔جبکہ اٹک میں میجر طاہر صادق کی طرف سے منعقدہ تقریب میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے بھی اس سڑک بارے مطالبہ کیا گیا تھا جو تاحال صرف اعلان تک ہی محدود رہا جبکہ زلفی بخاری نے بھی تحصیل جنڈ میں ایک تقریب میں اس روڈ بارے اعلان کیا تھا۔
