مودی کو ایوارڈ سفارتی محاذ پر پاکستان کی ناکامی ہے:شیخ آفتاب احمد

اٹک ( نمائندہ اٹک نیوز ) مرکزی رہنما مسلم لیگ ( ن ) سابق وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان جن عرب حکمرانوں کی آمد پر ان کے ڈرائیور بنے آج وزیر اعظم ان سے دست بدستہ ہو کر سوال کریں کہ انہوں نے امت مسلمہ کے سب سے بڑے دشمن لاکھوں بے گناہ بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کے قاتل بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو ریاست کا سب سے بڑا ایوارڈ کیوں دیا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلعی سیکرٹریٹ مسلم لیگ ( ن ) میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سابق امیدوار حلقہ پی پی ون مسلم لیگ ( ن ) شیخ سلمان سرور ، ضلعی صدر مسلم لیگ ( ن ) محمد سلیم شہزاد ، تحصیل صدر اٹک میاں شاہنواز شانی ، سٹی صدر شیخ محمود الہٰی ، ضلعی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر میاں راشد مشتاق ، شیخ عواد صفدر ، شیخ حامد قدوس ، سرپرست اعلیٰ اٹک پریس کلب رجسٹرڈ حاجی محمد فیضیاب خان ، جوائنٹ سیکرٹری شیخ بابر قیوم اور دیگر موجود تھے شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات حکومت کی جانب سے کشمیر کی سنگین ترین صورتحال کے باوجود مسلمان کے سب سے بڑے دشمن مودی کو ریاست کا سب سے بڑا ایوارڈ دینا مسلمانوں اور خصوصاً پاکستانیوں کے منہ پر طمانچہ ہے یہی اسلامی ممالک تھے جب محمد نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرنے کا اعلان کیا تو ہر طرح کی امداد کے لئے تیار تھے اس لئے کہ اس وقت پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اٹیمی ملک بن رہا تھا پوری دنیا میں نمایاں مقام حاصل کر رہا تھا لیکن افسوس نیازی سرکار نے اس عزت و وقار کو زمین پر گرا دیا اور پوری دنیا میں پاکستان مشکوک بنا دیا یہی وجہ ہے کہ آج بیرون ممالک پاکستان پر اعتماد نہیں کرتے سرمایہ کار پاکستان کے بجائے بھارت میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں ایسی صورتحال میں جب یورپین ممالک سمیت کئی مسلم ممالک کی بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہے تو آپ کیسے دنیا کو بھارت کے خلاف مجبور کر سکتے ہیں کل جن کی آمد پر آپ ڈرائیو بنے تھے آج ان سے آپ پوچھیں انہوں نے یہ ایوارڈ دے کر کیوں امہ مسلمہ کی دل آزاری کی لیکن سچ تو یہ ہے کہ آپ یہ سوال کر ہی نہیں سکتے کیونکہ آپ نے خود کو دنیا کے سامنے بھکاری اور سابق حکمرانوں کو چور ثابت کرنے کے لئے تمام حدود کراس کی ہیں یہ ملک اٹیمی قوت بنا ، ہزاروں کلومیٹر موٹر ویز بنی ، ایئر پورٹس بنے ، غازی بروتھ بنا دیگر بے شمار منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچانے لیکن دنیا کے سامنے عزت و وقار کو برقرار رکھا لیکن آج نا اہل ترین حکمرانوں نے بھیگ مانگ مانگ کر اس ملک کی عزت کا جنازہ نکال دیا ہے قرضہ کون سا ملک نہیں لیتا ، امریکہ کھربوں ڈالر کا مقروض ہے پھر بھی دنیا کے سامنے اپنی معاشی کمزوریوں کا رونا نہیں روتا اسی لئے آج بھی سپر پاور ہے ہمارے حکمرانوں اور مقتدر قوتوں کو سوچنا ہو گا اور پالیسی بنانا ہوگی ہ میں اپنے ملک کے وسائل پر انحصار کر کے دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام بحال کرنا پڑے گا ورنہ ہماری بات کی اہمیت وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائے گی موجودہ حکمرانوں نے اقتدار میں آتے ہی جو پوری دنیا کے سامنے بھیگ مانگنے اور سابقہ حکومتوں کو چور اور ڈاکو کہنے کی روش اختیار کی تھی آج سفارتی محاذ پر شدید ناکامی اسی کا نتیجہ ہے ۔
