اٹک : میں ایک ہی روز میں مسلح ڈکیتی کی 2 وارداتیں

اٹک :اٹک میں  ایک ہی روز میں مسلح ڈکیتی کی 2 وارداتیں تھانہ حضرو کی حدود میں مسلح ڈاکو دن دیہاڑے گھر سے آتے ہوئے صراف لوٹ لیا 6 ماہ میں حضرو میں صرافہ برادری کو لوٹنے کی 8 سے زائد وارداتوں پر پولیس کی جانب سے کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ کرنے پر صرافہ ایسوسی ایشن حضرو نے غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال اور پولیس کے ناروا رویہ کی بناء پر کاروبار ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور دوسری واردات میں پولیس چوکی سے چند قدم کے فاصلے پر گھر میں گھس کر ایک گھنٹہ تک آرام سے ڈکیتی کی کامیاب واردات کے بعد ڈاکو چہل قدمی کرتے ہوئے فرار ہو گئے تفصیلات کے مطابق تھانہ حضرو کے علاقہ نرٹوپہ سے حضرو شہر آنے والے صدیق صراف کو راستہ میں 3 نامعلوم مسلح ڈاکوءوں نے جو پشتو زبان بول رہے تھے اسلحہ کی نوک پر تشدد کا نشانہ بنا کر ان سے لائسنس یافتہ اسلحہ اور لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات اور نقدی لوٹ کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جس پر وہ سڑک کے کنارے نالے میں جا گرے اور ڈاکو ان سے اسلحہ ، طلائی زیورات اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے ڈکیتی کی اس واردات کے خلاف صرافہ ایسوسی ایشن حضرو نے احتجاجاً اپنی دکانیں بند کر کے صرافہ مارکیٹ میں شٹر ڈاءون کر دیا میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صدر صرافہ ایسوسی ایشن اور دیگر عہدیدار صرافہ ایسوسی ایشن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ 6 ماہ کے مختصر عرصہ میں 8 سے زائد وارداتیں ہو چکی ہیں اور پولیس ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کر رہی انہوں نے احتجاجاً نہ صرف دکانیں بند کیں ہیں بلکہ پولیس کے ناروا رویہ کی بناء پر کاروبار بھی ختم کر رہے ہیں کیونکہ وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور انہیں کسی قسم کا کوئی تحفظ حاصل نہیں ڈی ایس پی حضرو نے ان سے ملاقات میں کہا کہ ان کے پاس نفری کی کمی ہے اور وہ ان کی حفاظت کرنے سے قاصر ہیں ، دوسری واردات ماڈل پولیس اسٹیشن اٹک سٹی کی محلہ اعوان شریف میں قائم سٹی چوکی اٹک سے چند قدم کے فاصلہ پر اعجاز علی ، فیاض الہٰی ، محمد یعقوب ، منظور الہٰی پسران حاجی ایوب خان کے گھر میں ہوئی جہاں چاروں بھائیوں کی مشترکہ رہائش ہے دن ساڑھے 10 بجے 2 مسلح نوجوان ان کے گھر میں داخل ہوئے جہاں چار فیملیاں رہائش پذیر ہیں مسلح ڈاکوءوں نے گھر میں داخل ہوتے ہی ٹوکے اور اسلحہ نکال کر جان سے مارنے کی دھمکی دی جس پر خواتین خوف و ہراس کا شکار ہو گئیں اور ڈاکوءوں نے خواتین سمیت تمام اہلخانہ کو ایک ہی کمرہ میں بند کر کے محمد یعقوب کو کنپٹی پر پسٹل رکھ کر اس سے گھر میں موجود 35 تولے طلائی زیورات ، 7 لاکھ 61 ہزار روپے نقد اور 5 قیمتی موبائل چھین کر اطمینان سے ایک گھنٹہ تک لوٹ مار کی اور چاروں بھائیوں کے والد حاجی ایوب خان جنہوں نے بتایا کہ وہ مریض ہیں اور ان کا پیٹ خراب ہے وہ بار بار رفع حاجت کیلئے واش روم جاتے ہیں اس بات پر ان نوجوان ڈاکوءوں نے ضیف العمر حاجی ایوب خان کو برے طریقہ سے تشدد کا نشانہ بنایا بعدازاں لوٹ مار کے بعد اطمینان سے گھر کے ساتھ والی گلی میں سے نکل گئے جس کی سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج موجود ہے ڈاکوءوں کے جانے کے بعد اہلخانہ کے شور کرنے پر محلہ کے افراد اکھٹے ہو گئے اور انہوں نے ان کو کمروں میں سے باہر نکالا چند قدم کے فاصلہ پر پولیس چوکی کو اطلاع دی جس پر پولیس کے اعلیٰ حکام نے بعدازاں جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور ڈکیتی کے مقام سے بعض شواہد بھی حاصل کیے اور سی سی ٹی وی کیمرہ کی فوٹیج سمیت ملزمان کے خاکے تیار کر کے ان کی گرفتاری کیلئے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے پولیس نے مسلح ڈکیتی کی اس واردات کی رپٹ درج کی ہے تاہم ایف آئی آر کا اندراج نہیں کیا گیا ۔