اٹک :غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کریک ڈائون

اٹک: ضلعی انتظامیہ اٹک کا غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کریک ڈان ، تین میلہ ہٹیاں روڈ پر برلب سڑک ایک کروڑ روپے سے زائد فی کنال کے علاقہ میں قائم سمحان ہائوسنگ سوسائٹی کو غیر قانونی قرار دے کر ضلع کونسل کے افسران و عملہ اور پولیس کی بھاری نفری کی مدد سے ہیوی مشینری کے ذریعے سوسائٹی میں توڑ پھوڑ کر کے کھنڈرات اور مٹی کا ڈھیر بنا دیا گی ، مزاحمت پر سوسائٹی کے ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتاری کے بعد جیل بھجوا دیا گیا اور سوسائٹی کے دفتر کو سیل کر دیا گیا ، ڈپٹی کمشنر اٹک نے ضلع بھر میں غیر قانونی تعمیرات روکنے کیلئے اے ڈی سی آر کی سربراہی میں 6 تحصیلوں میں کمیٹیاں قائم کر دیں ہیں ڈائریکٹر و مالک سمحان ہائوسنگ سوساءٹی اور ان کے قانونی مشیر نے ڈپٹی کمشنر اور ضلع کونسل کی جانب سے سوسائٹی کے خلاف کی جانے والی انتقامی کاروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کاروائی عدالت عالیہ راولپنڈی بینچ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی ہے اور مقدمہ کا اندراج بھی پولیس کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کے زمرے میں آتا ہے تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر اٹک عشرت اللہ خان نیازی کی خصوصی ہدایت پر اے ڈی سی آر چوہدری عبدالماجد کی زیر نگرانی چیف آفیسر ضلع کونسل اٹک عمران اصغر ، لیگل ایڈوائزر ضلع کونسل اٹک سردار توصیف احمد خان ایڈووکیٹ ، ڈی او پلاننگ ضلع کونسل اٹک شہزاد طفیل ، ایم او آئی اینڈ ایس بلدیہ اٹک ندیم فیروز اور دیگر عملہ نے ایس ایچ او تھانہ صدر اٹک عابد شاہ اور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ تین میلہ ہٹیاں روڈ پر واقع سمحان ہائوسنگ سوسائٹی کی چاردیواری توڑ کر سوسائٹی کی دو رویہ سڑک کے درمیان لگی لاکھوں روپے مالیت کی بیش قیمت ، فانوس کی طرز پر لگائی گئی سٹریٹ لائٹس کو بلیڈ لگے ٹریکٹر کی مدد سے توڑ دیا اور بعدازاں مقامی طور پر ایکسویٹر مشین منگوا کر سوسائٹی کا مین گیٹ توڑ دیا سوسائٹی انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر اٹک کی جانب سے کاروائی کی اطلاع قبل از وقت ملنے پر سوسائٹی کے مین گیٹ پر بھاری مشینری لگا کر بند کر دیا تھا جس کے سبب سوسائٹی کی دیواریں توڑ کر بلیڈ والا ٹریکٹر اور ایکسیویٹر اندر لایا گیا اور توڑ پھوڑ کا عمل شروع کیا گیا جو کئی گھنٹے تک جاری رہا اس دوران ایکسیویٹر مشین نے سوسائٹی کے اندر جانے کے مین راستے کی دو رویہ کارپٹ سڑک کو کھود کر موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے آثار قدیمہ میں تبدیل کر دیا جس پر گاڑی یا موٹر سائیکل تو کجا پیدل چلنا بھی محال ہو گیا ہے کئی مرتبہ کمپنی کے ملازمین نے ایکسیویٹر مشین کو روکنے کی کوشش کی تاہم پولیس کی موجودگی کے سبب توڑ پھوڑ کا عمل جاری رہا اس دوران سمحان ہائوسنگ سوسائٹی کے لیگل ایڈوائزر شیخ عبدالحنان قاسم صدیقی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے اے ڈی سی آر اٹک چوہدری عبدالماجد سے سوسائٹی میں توڑ پھوڑ کے سلسلہ میں کاروائی کے تحریری احکامات طلب کیے جس پر انہوں نے کہا کہ وہ ان کے دفتر سے آ کر وصول کر لیں بلڈنگ انفورسمنٹ انسپکٹر محمد الطاف کی تحریری درخواست کے انہیں اعلیٰ افسران نے غیر قانونی سوسائٹی سمحان ہائوسنگ سکیم واقع کامرہ روڈ نزد بائیکو پیٹرول پمپ کو غیر قانونی تعمیر کرنے ، اس پر کام رکوانے ،غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے اور سوسائٹی کو سیل کرنے کیلئے دیگر عملہ ضلع کونسل و افسران کمیٹی برائے انسداد غیر قانونی ہائوسنگ سمحان سکیم پہنچا تو موقع پر محمد ذیشان ولد امیر اسلم ساکن ہنگو ، نعمان خان ولد موسیٰ خان سکنہ فضائیہ کالونی راولپنڈی ، افتخار خان ولد محمد ایاز خان ساکن بنوں ، محم منیر صابر ولد بھائی خان ساکن خوشاب موجود تھے جنہوں نے بذریعہ مشینری سوسائٹی کا مین راستہ بند کر رکھا تھا اور سائل کو کار خیر میں مزمت کر کے روکے رکھا کیپٹن ریٹائرڈ وسیم حنیف نے غیر قانونی سمحان ہائوسنگ سکیم قائم کر کے اور تعمیرات کر کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے اور ان 5 افراد نے بذریعہ مشینری راستہ روک کر اور کار سرکار میں مداخلت کر کے زیادتی کی ہے اس تحریری درخواست کو ڈی او پلاننگ ڈسٹرکٹ کونسل اٹک ، ممبر کمیٹی شہزاد طفیل نے ایس ایچ او کو فارورڈ کیا جس پر ایس ایچ او تھانہ صدر اٹک عابد علی شاہ نے زیر دفعہ 186,341 ت پ اور پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 ء کی شق کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا بعدازاں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں ڈسٹرکٹ جیل اٹک بھیج دیا گیا ہے بلڈنگ انفورسمنٹ انسپکٹر محمد الطاف نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سمحان ہائوسنگ سوسائٹی جو غیر قانونی ہے جس کو 5 ماہ قبل بلیک لسٹ قرار دے کر کسی قسم کے کام سے منع کر دیا گیا تھا انہوں نے عدالت سے رجوع کیا اور وہاں سے بھی انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جس پر گزشتہ روز ضلع کونسل کی جانب سے انہیں نوٹس دیا گیا جس پر سوسائٹی کی انتظامیہ نے نہ صرف انہیں ہراساں کیا بلکہ انہیں حبس بے جاہ میں رکھنے کی کوشش کی چیف آفیسر ضلع کونسل اٹک عمران اصغر نے بتایا کہ سوسائٹی قطعی طور پر غیر قانونی ہے اور اس کے خلاف ڈپٹی کمشنر اٹک جو ایڈمنسٹریٹر ضلع کونسل بھی ہیں کی ہدایت پر یہ کاروائی کی گئی ہے ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریوینو اٹک چوہدری عبدالماجد نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت پاکستان اور وزیر اعظم کی واضح ہدایات کی روشنی میں حکومت پنجاب کی زیر نگرانی حکومت کی تمام پالیسیوں پر سختی سے عملدآمد کیا جائے گا اور اس سلسلہ میں کسی بھی غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹی یا تجاوزات کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا ان غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنا ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور اس پر ہر صورت میں عملدآمد کیا جائے گا ڈپٹی کمشنر اٹک کی زیر نگرانی ضلع بھر کی انتظامیہ اس پر بھرپور طریقہ سے عمل پیرا ہے اور کسی کو کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی کسی قسم کی غلط فہمی میں رہے کیونکہ غیر قانونی تعمیرات کو ضلعی انتظامیہ ہر صورت مسمار کرے گی دریں اثناء سمحان ہائوسنگ سوسائٹی کے ڈائریکٹر و مالک محمد حفیظ خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ہائوسنگ سکیم ضلع اٹک میں ایک بہتر ہائوسنگ سکیم لے کر آئی جس سے علاقہ میں تعمیر و ترقی کے نئے باب کا اضافہ ہوا تاہم ایک مافیا ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا جس نے ہ میں تنگ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑا ہم عدالت عالیہ کے احکامات کی روشنی میں سوسائٹی میں ترقیاتی کام کرا رہے تھے اور عدالت عالیہ نے واضح حکم دیا تھا کہ جب تک عدالت این او سی پر کوئی فیصلہ نہ دے تو انتظامیہ کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ کرے تاہم اے ڈی سی آر اٹک پورے لائو لشکر اور پولیس کے ہمراہ آئے اور ان کے پاس سوسائٹی کی تعمیرات کو مسمار کرنے کا کوئی تحریری حکم نہیں تھا ہمارے طلب کرنے پر بھی ہ میں کوئی تحریری حکم نامہ نہیں دیا گیا اٹک کی انتظامیہ مافیا کا حصہ بن چکی ہے تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتیں تحفظ فراہم کریں اور ان کے خلاف کی جانے والی انتقامی کاروائیوں کو روکنے کی کوشش کریں پاکستان جو اس وقت بد ترین معاشی صورتحال سے گزر رہا ہے ان برے حالات میں بھی اس طرح کی کاروائیاں کرنے سے کاروباری طبقہ بری طرح متاثر ہو گا جس کے منفی اثرات معیشت پر مرتب ہوں گے اٹک میں جنگل کا قانونی لاگو ہے اور ڈپٹی کمشنر اٹک سمیت پولیس یا کسی ادارے کو ان کے غیر قانونی اقدامات پر روکنے والا کوئی نہیں ہمارے لیگل ایڈوائز شیخ عبدالحنان قاسم صدیقی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے اے ڈی سی آر سے جب سوسائٹی میں توڑ پھوڑ کے قانونی احکامات طلب کیے تو انہوں نے کہا کہ وہ خود قانون ہیں اور ان کے پاس کوئی قانونی احکامات نہیں آپ جو مرضی کر لیں اور ہماری کروڑوں روپے کی تعمیرات کو ملبہ کا ڈھیر بنا دیا گیا اور ہمارے 5 افراد کے خلاف ماورائے آئین و قانون ، ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا جس کی قانون میں کسی طرح کی کوئی گنجائش نہیں ہے وہ جلد ہی ان شخصیات ، اداروں اور افراد کو بے نقاب کریں گے جنہوں نے ان سے کروڑوں روپے بطور رشوت طلب کیے جس کی عدم ادائیگی پر ہ میں نشان عبرت بنا دیا گیا تمام حقائق ثبوت کے ساتھ منظر عام پر لائے جائیں گے شیخ عبدالحنان قاسم صدیقی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے میڈیا کو بتایا کہ سوسائٹی کے خلاف ہونے والی تمام انتقامی کاروائیاں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے اور اس سلسلہ میں ان افسران کے خلاف قانون کی خلاف ورزی پر کاروائی کیلئے عدالت سے رجوع کیا جائے گا ۔
