اٹک: قافلوں کے استقبال کیلئے بھی ہوم ورک مکمل کر لیا :ڈاکٹر قاری عتیق الرحمن

اٹک :جمعیت علماء اسلام ضلع اٹک نے آزادی مارچ کی تیاریاں تیز کردیں صوبائی امیر ڈاکٹر قاری عتیق الرحمان اور ضلعی امیر مفتی تاج الدین ربانی نے

 عاملہ شوری اور جنر کونسل کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کے ورکرز سے مل کر آزادی مارچ کے لیے کے پی کے سے آنے والے قافلوں کے استقبال کے لئے بھی ہوم ورک مکمل کر لیا جمعیت علماء اسلام کے ذراءع کے مطابق ہزارہ روڈ کے ذریعے آنے والے قافلے کا استقبال حسن ابدال کی جماعت کرے گی ، پشاور سے ایم ون موٹر وے پر آنے والے قافلے کا استقبال حضرو کی جماعت جبکہ جی ٹی روڈ کے ذریعے آنے والے قافلوں کا استقبال اٹک جماعت کے ذمے ہو گا ،

اسی طرح کوہاٹ ، بنوں اور دیگر اضلاع سے آنے والے قافلوں کو جنڈ اور پنڈی گھیب کے عہدیداران اور کارکنان جمعیت استقبال کے ساتھ ساتھ آنے والے قافلوں کی مہمان نوازی کا فریضہ بھی انجام دیں گے اٹک کے سارے قافلے مہمانوں قافلوں کا استقبال بھی کریں گے اور پھر انہی کے ساتھ اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے میانوالی تلہ گنگ سے آنے والے قافلوں کو فتح جنگ کے اراکین ویلکم کریں گے امیر جمعیت علمائے اسلام ضلع اٹک مفتی تاج الدین ربانی سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ آزادی مارچ کے لئے جے یو آئی کارکنان اور عہدیداران ضلع بھر میں سر گرم عمل ہیں اور آزادی مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے بھی رابطے ہیں اور وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ ضلع اٹک کو ان قافلوں کی میزبانی کا شرف حاصل ہو اس حوالے سے بھی ہوم ورک مکمل ہے ۔

مفتی تاج الدین نے کہا کہ ہمارا مطالبہ آئین پاکستان کی پاسداری ہے اس لیے ہم مکمل قانون اور آئین کی پاسداری کریں گے اور 15 ملین مارچ کی طرح پر امن ہوں گے ملکی ادارے ہمارے ادارے ہیں وہ ہمارے محافظ ہیں ہم ان کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم خود ان سے تعاون کریں گے اور کوئی بدامنی ہماری طرف سے نہیں ہو گی ہماری منزل اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ ہے اور عوام کی طاقت سے اس نا اہل اور ناجائز حکومت بلکہ ظالم حکمرانوں کو جنہوں نے ایک سال میں یہودیوں کے کہنے پر ظالمانہ بجٹ بنا کر عوام کے منہ سے نوالہ چھینا ہے ملکی نفع بخش اداروں کو بیچنے اور اپنوں کو نوازنے کاپروگرام بناچکے ہیں ہماری شہ رگ مقبوضہ کشمیر کو بیچ چکے ہیں ہ میں خبر بھی نہ ہو نے دی اب قوم کو غفلت سے نکلنا ہو گا اس وقت مولانا فضل الرحمن دکھی اور مظلوم عوام کی آواز ہیں ہ میں پاکستانی ہونے کے ناطے پاکستان کو بچانا ہو گا اس وقت ڈاکٹرز روڈوں پر احتجاج کر رہے ہیں ، تاجر پورے ملک میں شٹر ڈاون کر رہے ہیں ، صحافت پر مارشل لاء دور سے بھی بدترین پابندیاں ہیں وکلاء عدلیہ کی آزادی کیلئے ہڑتالیں کرچکے ہیں ہمارا آزادی مارچ ان شا اللہ تعالیٰ سب کی آزادی کے لیے ہے اور ہ میں سب کا تعاون ہو گا ۔