محلہ امین آباد ( بجلی گھر ) غیر قانونی مذبح خانوں کا مرکز بن گیا

افغانی قصائیوں کا راج ، نالیاں گوبر سے بھر گئیں ،محلہ کے لوگوں کیلئے وبال جان بن گئے
اٹک :محلہ امین آباد ( بجلی گھر ) غیر قانونی مذبح خانوں کا مرکز بن گیا ، افغانی قصائیوں کا راج ، نالیاں گوبر سے بھر گئیں ، بجلی گھر کے ساتھ ، سامنے اور گردو نواح گلیوں میں غیر قانونی باڑے جن میں ذبح کرنے والے جانور رکھے ہوئے ہیں محلہ کے لوگوں کیلئے وبال جان بن گئے ، بلدیہ اٹک کے عملہ کو متعدد بار شکایات کے باوجود کوئی عمل نہیں ہو رہا ، تفصیلات کے مطابق محلہ امین آباد کے رہائشیوں ڈاکٹر شیخ اسد صدیقی ، شیخ فیصل فیاض ،حسیب قیوم ، عالمگیر ، محمد وقاص، اعتبار دین ، بھٹی ساحب کریانہ سٹور والے ، عبداللہ خان ، جہانزیب چغتائی ، محمد شہزاد اختر ، محمد ساجد ، محمد اشفاق ، جمال علی ، رفیع الدین افغانی ، واحد افغانی، سہیل افغانی ، ڈاکٹر واجد و دیگر نے سروے کے دوران بتایا کہ اٹک شہر کے وسط میں بجلی گھر آفس کےساتھ اور گردو نواح کی گلیوں میں افغان قصائیوں نے قانون کا کھلواڑ کر دیا ہے
قانون کے آگے نا معلوم وجوہات کی بناء پر متعلقہ آفیسر ز بے بس نظر آ رہے ہیں عرصہ دراز سے قائم یہ باڑے اور ذبح خانے میں جتنا بھی گوبر ہو تا ہے وہ ملحقہ نالیوں میں ڈال دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف بلدیہ کے صفائی کے عملہ کیلئے وبال جان بنا ہو اہے وہاں کے مکین بھی ذہنی اذیت سے دوچار ہیں اہلیان محلہ کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کلین اینڈ گرین مہم پر اٹک میں لاکھوں روپے خرچ کر رہی ہے تاہم اس شہر کے وسط میں غیر قانونی ذبح خانوں اور باڑوں پر کوئی ایکشن نہیں ہو رہا اہلیان محلہ نے ڈپٹی کمشنر اٹک علی عنان قمر سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محلہ بجلی گھر گوبر ، غلاظت اور غیر قانونی ذبح خانوں سے نجات حاصل کر سکے ۔
