پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد رکھیں ، سابق وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد

 پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد رکھیں ، سابق وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد

 نیب قوانین میں ترامیم ماضی میں نہیں کی گئی جس سے کئی بے گناہ لوگوں کو مہینوں جیلوں میں بند رکھا گیا اور پھر عدم ثبوتوں کی بنیاد پر عدالتوں کو ضمانت پر رہا کرنا پڑا، سابق وفاقی وزیر 

اٹک: سابق وفاقی وزیر و سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن پنجاب شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترامیم آئینی مسئلے کے مناسب حل کے لئے اہم ہے اس کو بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں یہ معاملہ پارلیمنٹ کے ایوان میں منظوری کے لئے تیار ہے اور اس میں ایک واضح پیغام تمام آئینی اداروں کے لئے پارلیمنٹ کی بالادستی کی صورت میں موجود ہے۔ کسی بھی قانون سازی یا آئینی ترمیم کے لئے پارلیمنٹ ہی وہ واحد ادارہ ہے جس کی منظوری ضروری ہے سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ نیب قوانین میں ترامیم ماضی میں نہیں کی گئی جس سے کئی بے گناہ لوگوں کو مہینوں جیلوں میں بند رکھا گیا اور پھر عدم ثبوتوں کی بنیاد پر عدالتوں کو ضمانت پر رہا کرنا پڑا۔ شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق، حمزہ شہباز سمیت دیگر کئی قائدین مینوں نیب کی حراست میں ہیں لیکن آج تک ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا اسی طرح سینئر بیورو کریٹ فواد حسن فواد گزشتہ دو سال سے نیب کی حراست میں ہیں لیکن عدم ثبوت کی بناء پر کیس التواء کا شکار ہے۔ 

 

اس لئے نیب قوانین میں ترامیم کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو متفق ہونا چاہیے تاکہ کسی کو بھی بے گناہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت نہ کرنی پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اے این ایف کے سربراہ کو کابینہ اجلاس میں طلب کر کے رانا ثناءاللہ کے خلاف ہیروئن کیس میں پوچھ گچھ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ کی اس کیس میں کیا اسی خاص دلچسپی ہے۔ ہیروئن برآمد ہوئی ہوتی تو آج آپ کو اس طرح اے این ایف کے سربراہ کو طلب نہ کرنا پڑتا۔ اس لئے جو لوگ آرمی ایکٹ اور نیب قوانین کے حوالے سے تحفظات اظہار کر رہے ہیں انہیں چاہیے کہ پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد رکھیں آپ کو اعتماد کو کبھی میں ٹھیس نہیں لگے گی۔