ملک حاکمین خان کی پہلی برسی ،پیپلز پارٹی مرکزی قیادت کی شرکت

 ملک حاکمین خان کی پہلی برسی ،پیپلز پارٹی مرکزی قیادت کی شرکت

صدر پی پی پی پنجاب ممبر سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی پی پی پی قمر زمان کائرہ ، سابق چیئرمین سینٹ نئیر بخاری،سابق وفاقی وزیر سردار سلیم حیدر سمیت پیپلز پارٹی کی ضلعی و راولپنڈی ڈویژن کی قیادت کی بھرپور شرکت 

اٹک(اٹک نیوز مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ مست ہاتھی کی طرح پوری دنیا پر اپنا تسلط چاہتاہے، امریکی صدر باکسر کی طرح ہر چیز کو ملیا میٹ کرنا چاہتا ہے،ملک حاکمین خان نے اپنی پوری زندگی پیپلز پارٹی کو دی ان جیسا وفادار ،خوش گفتار ، خوش لباس انسان کسی بھی جماعت کا سرمایہ ہوتا ہے اور انہوں نے وفا داری کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ان خیالات کا اظہار صدر پی پی پی پنجاب ممبر سنٹرل ایگزیکیٹو کمیٹی پی پی پی قمر زمان کائرہ نے پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ،بانی چیئر مین پی پی پی ذوالفقار علی بھٹو شہیداور شہید محترمہ بینظیر بھٹوکے قریبی ساتھی بابائے جمہوریت نواب زادہ نصراللہ خان (مرحوم )کے دستِ راست،سابق وزیر اور نصف درجن قومی سطح کے اتحادوں کے کوارڈینٹر، سینیٹر ملک حاکمین خان کی پہلی برسی کے موقع پر بلاول سیکرٹریٹ شین باغ میں منعقدہ تقریب کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام ملک حاکمین خان مرحوم کے صاحبزادے سابق رکن پنجاب اسمبلی ملک شاہان حاکمین خان نے کیا تھا تقریب سے سابق چیئرمین سینٹ نئیر بخاری،سابق جنرل سیکرٹری اے آر ڈی و ایم آر ڈی عبد القدیر خاموش،چیئرمین مشائخ ونگ پاکستان سعیدالرشید عباسی ،سابق رکن پنجاب اسمبلی ملک شاہان حاکمین خان، برطانیہ سے آئے ہوئے ملک حاکمین خان کے پوتے ملک شاہ زور حاکمین خان ،فوکل پرسن پاکستان جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، ڈویژنل صدر پی پی پی راولپنڈی ڈویژن سردار سلیم حیدر خان، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے بیٹے ڈویژنل جنرل سیکرٹری راجہ خرم پرویز اشرف ، ضلعی صدراشعر حیات خان،ضلعی نائب صدر نصیر جدون ،سابق امیدوار قومی اسمبلی ذوالفقار حیات خان،معروف نعت خوان عبد الرزاق جامی نے اپنا عارفانہ کلام پیش کرکے مرحوم ملک حاکمین خان کو شاندار الفاظ میں ان کی پی پی پی اور علاقہ کے لیے کی جانے والی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ،ہدیہ نعت کمسن نعت خوان سید فرید الحسن بخاری نے پیش کی،اختتامی دعا معروف مذہبی اور روحانی شخصیت پیر سید واجد علی شاہ آف بوٹا نے کرائی ،ضلعی جنرل سیکرٹری اعوان اتحاد ملک امداد حسین اعوان نے خطاب کیا جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فراءض پیپلز پارٹی کے لیے چھ جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء بھدری کے وارث ملک وقار اعوان نے اپنے پرجوش خطاب سے تقریب کی رونق کو چار چاند لگائے رکھے ۔

 

قمرزمان کائرہ نے کہا کہ عالمی طاقتوں اور عالمی سرمایہ داری نظام نے اس سے پہلے ،پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں دنیا کے نقشے یکسر تبدیل کیے یہ جنگیں بھی بڑی طاقتوں اور سرمایہ داری نظام کی ضرورتوں کے لیے ہوئی تھیں اس میں کروڑوں لوگ ناحق قتل ہوئے ، آج پھر امریکی نظام اور سرمایہ داری پھنسی ہوئی ہے اور اس طرح کے بڑے ہنگامے کرنا چاہتے ہیں جس طرح انہوں نے ایرانی جنرل کوعراق میں قتل کیا امریکہ کا صدر بد مست ہاتھی اور باکسر ہے عجیب و غریب مزاج کا حامل ہے وہ اس طرح کا صدر ہے کے جس کے خلاف ان کی اپنی حکومت اور اپنے لوگ آواز بلند کر رہے ہیں امریکہ نے اور عالمی سرمایہ داری نظام نے عراق ، لبیا، شام، افغانستان اور پورے خطے کو غیر مستحکم کیا ہوا ہے ، ایرانی جنرل کا قتل قابل مذمت ہے جس کی مذمت خود امریکہ میں کی جا رہی ہے ، ہماری حکومت بیچاری اس بارے میں کیا کر سکتی ہے ، ہم کشمیریوں کے لیے کچھ نہیں کر سکے ، ایرانیوں کے لیے ہم کیا کریں گے، پاکستان کو اپنے طور پر خطے میں امن کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تاکہ خطہ میں کشیدگی کم ہو، حالات خراب پر اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہونگے ، مسلمان اور ایک اچھے ذمہ دا ر پڑوسی کے طور پر ہ میں اپنا کردار ضرور ادا کرنا چاہیے ،سروسزچیف کی ملازمت کے حوالے سے فاضل سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں تحریر کیا کہ اس قانون میں سقم ہے توسیع کے سلسلہ میں قانون میں کوئی وضاحت نہیں تھی عدالت نے کہا کہ اسے قانونی شکل دی جائے اور اس کے لیے پارلیمنٹ کو چھ ماہ کی مدت کا کہاگیاپارلیمنٹ کی جانب سے منظور ہونے والے قانون میں تحریر ہے کہ سروسز چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار وزیر اعظم کا ہے ، وزیر اعظم کا اختیار ہے کہ وہ سروسز چیف کی نامزدگی کریں اور ان کی مدت ملازمت میں توسیع کریں ، وزیر اعظم کے اختیار کو کون سی جماعت قد غن لگاتی، ہم نے جنرل باجوہ سمیت کسی کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں بلکہ وزیر اعظم کے اختیارات کو قانونی شکل دی ہے،انہوں نے شیخ رشید کے بیان پر تبصرہ کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یا وہ حکومت یا پاک آرمی پر تنقید کرنا ہو گی تاہم وہ ا س پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے کیوں کہ شیخ رشید چٹکلے چھوڑنے کے عادی ہیں ،سابق چیئرمین سینٹ نئیر بخاری نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے 2020کو الیکشن کا سال قراردیا ہے اور یہ الیکشن کا سال ثابت ہو گا ، مہنگائی کے ہاتھوں عوام کا جینا محال ہو چکا ہے اور جب اس طرح کی صورتحال پیدا ہو جائے اس وقت اس کا سد باب ہونا چاہئے ، پچھلے 17ماہ میں عوام کو کوئی آسودگی نہیں ملی ، عوام کہاں کھڑے ہیں معیشت کہاں کھڑی ہے ;238; حکمرانوں کو کچھ پتہ نہیں ، بلاول بھٹونے جب سلکیٹیڈ وزیر اعظم کا کہا تو عمران خان کے سر کے اوپر سے بات گزر گئی اور وہ ڈیسک بجاتا رہا، عمران خان کی کوئی سیاسی بصیرت نہیں ہے ، ملک حاکمین خان (مرحوم )نے ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بلاول بھٹو تک وفا کی اور مرتے دم تک پارٹی کے لیے قیمتی اثاثہ ثابت ہوئے ، جس طرح ملک حاکمین خان نے مرتے دم تک پارٹی کا پرچم تھاما امید ہے کہ ملک شاہان حاکمین خان ان کے اس مشن کو آگے بڑھائیں گے اور پارٹی ورکرز کو ساتھ لے کر چلیں گے صدر پی پی پی پنجاب قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ملک حاکمین خان نے ان کے والد اور چچا کے ساتھ بھی سیاست کی اس حوالہ سے بھی ان کا چچا بھتیجا کا رشتہ تھا اور وہ مجھے لیڈر صاحب کہا کرتے تھے جس پر میں نے کہ لیڈر تو آپ ہیں آپ ہمارے بڑے ہیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پارٹی میں بڑا عہدہ دیا ہے پارٹی کی قیادت نے آپ کو لیڈر بنایا ہے تو آپ میرے لیڈر ہیں ملک حاکمین خان کی ساری زندگی میں گزری او ر انہوں نے ملک بھر میں راءج منافقانہ سیاست سے ہمیشہ گریز کیا اور کسی کے خلاف کبھی کوئی شکایت یا گلہ شکوہ نہیں کیا اور وہ کبھی کسی سے ناراض بھی ہوئے تو ان کا بڑاپن تھا کہ وہ ہمیشہ راضی بھی خودی کرتے تھے آج ہمارا معاشرہ جن ز ریں اصولوں سے محروم ہے ا ن میں یہی چیزیں تھیں کہ ملک حاکمین مرحوم جیسے لوگ آج اس دنیا میں نہیں اورجو لوگ ہیں وہ جس طرح کے کردار کے ہیں وہ ہر شخص بہتر جانتا ہے ، ہر روزپارٹیاں تبدیل کرنے اور وفا داریاں تبدیل کرنے والے لوگوں کا احتساب کرنا ہوتا ہے تاہم ابھی معاشرہ شعور کی اس سطح پر نہیں پہنچا پارٹی کے ساتھ جڑے ہوئے شخص کا گلہ درست ہوتا ہے اور جو پارٹی کے ساتھ وفا دار نہ ہو وہ اس کی بات بھی سننے کو تیا ر نہیں ، آج معاشرہ میں ہر طرف دھوکہ اور فراڈ کا دور دورہ ہے دراصل دھوکہ دینے ولا دراصل اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے جب عوام درست فیصلے کریں گے تو سیاست دان بھی راہ راست پر آ جائیں گے عوام آئے روز پارٹیاں تبدیل کرنے والوں کا مسترد کردیں اب سیاست دان گملوں میں اگائے جا رہے ہیں اگر ایک گھر میں چار بھائی اپنے اپنے مفادات کا سوچیں تو وہ گھر تباہ ہو جاتا ہے اور معاشرہ میں یہ ڈگر عام ہو تو اس معاشرہ کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے آج پوری قوم کو وزیر اعظم عمران خان نے دھوکہ دیا کل کوئی اور دھوکہ دینے والا آ جائے گا ہر شخص اقتدار میں رہنا چاہتا ہے اقتدار پر مرمٹنے والے دراصل تمام برائیوں کی جڑ ہوتے ہیں کچھ عرصہ قبل تک لوگوں کے گھر کچے اور وہ صاحب کردار تھے آج لوگوں کے پختہ مکان ہیں تاہم اصول اور کردار نہ ہونے کے سبب معاشرہ میں ابن الوقت اور مفادپرستوں کو ہجوم ہے ، لیڈ ر کوئی فرشتہ نہیں ہوتا سب سے غلطیاں ہوتی ہیں آج قوم کو ملک حاکمین خان جیسے کردار کی ضرورت ہے جنہوں نے پارٹی سے کبھی گلہ شکوہ بھی کیا تو اس کا کسی کو علم نہیں اور وہ خود بھی پارٹی اجلاسوں میں سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں تاہم پارٹی کا فیصلہ قبول کر کے باہر نکلتے ہیں تو آج تک پارٹی کے ساتھ ان کا کوئی تنازعہ سامنے نہیں آیا ، پی پی پی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے بھٹو نے جمہوریت کے لیے پھانسی کا پھندہ خوشی سے گلے سے لگایا محترمہ بے نظیر بھٹو کو غیر جمہوری قوتوں نے شہید کیا آصف علی زرداری 12سال جیل کاٹنے کے بعد بھی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں ہم بھی ضمیر فروخت کر کے اقتدار حاصل کر سکتے تھے تاہم تاریخ میں رسوا ہو جاتے ۔