وومن چیمبر کامرس اٹک کے زیر اہتمام تربیتی ورکشاپ کا اہتمام

اٹک کی خواتین کی صلاحیتیوں کو اجاگر کر کے انہیں دور جدید جس میں دنیا ’’ گلوبل ویلیج ‘‘ کی صورت اختیار کر چکی ہے،مقررین
اٹک ( ڈیلی اٹک نیوز ویب) اٹک کی خواتین کی صلاحیتیوں کو اجاگر کر کے انہیں دور جدید جس میں دنیا ’’ گلوبل ویلیج ‘‘ کی صورت اختیار کر چکی ہے چار چاند لگائے جا سکتے ہیں اٹک کی خواتین گھریلو صنعت ، ہینڈی کرافٹ ، زراعت ، تجارت ، تعلیم و صحت ، قانون ، انجینئرنگ سمیت تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتیوں کا لوہا منوا چکی ہیں وائس چیئرپرسن سارک ایوان صنعت و تجارت حنا منصب خان کی قیادت میں اٹک وومن چیمبر کامرس اینڈ انڈسٹری اٹک کی خواتین کو ترقی کے دھارے میں لانے میں کوشاں ہے ان خیالات کا اظہار ای لائبریری اٹک میں ’’ ایکسلٹریکا ا ‘‘ کے زیر اہتمام سیلز فورس مینجمنٹ فار ایس ایم ایز کی ایک روزہ تربیتی ورکشاپ سے ترجمان حکومت پنجاب قاضی احمد اکبر خان ، ممبر پنجاب بار کونسل سید عظمت علی بخاری ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ، سرپرست اعلیٰ اٹک وومن چیمبر کامرس اینڈ انڈسٹری بیگم شہناز قاضی خالد ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ایکسلٹریکا ظفر عزیز عثمانی ، ڈائریکٹر پروجیکٹ اینڈ کنسلٹنٹ سروسز فواد احمد خان ، ضلعی صدر شعبہَ خواتین تحریک انصاف مسز جعفری اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا ورکشاپ سے حنا منصب خان نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر اٹک کے دور دراز علاقوں سے آئی ہوئی خواتین کی کثیر تعداد کے علاوہ صدر اٹک وومن چیمبر کامرس اینڈ انڈسٹری نعیمہ ناز ، سینئر نائب صدر ملکہ شاہین ، نائب صدر صباء ولیم ، جنرل سیکرٹری سلمٰہ سلیم ، لیگل ایڈوائزر اٹک وومن چیمبر کامرس اینڈ انڈسٹری فہیم اعجاز ملک ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ، انچارج ای لائبریری رخسانہ ناصر بھی موجود تھیں ترجمان حکومت پنجاب قاضی احمد اکبر خان نے کہا کہ چھوٹی صنعتیں کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔
دنیا بھر میں مسلمہ اصول ہے کہ سب سے زیادہ روزگار چھوٹی صنعتیں ہی فراہم کرتی ہیں یہ امر خوش آئند ہے کہ اٹک جیسے پسماندہ اور مذہبی روایات کے حامل علاقہ میں بھی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ بیوٹی پارلرز ، شعبہَ تعلیم و صحت ، بوتیک ، مختلف تجارتی سرگرمیوں ، گھریلو صنعتوں ، قانون ، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتیوں کا لوہا منوا رہی ہیں موجودہ مہنگائی اور بے روزگای کے دور میں جب ایک شخص بڑے گھر کے اخراجات چلانے میں ناکام ہوتا ہے تو خواتین کا کسی بھی شعبہَ میں آنا اس گھر کے معاشی استحکام کا باعث بنتا ہے خواتین سے بہتر سیلز کے فرائض کوئی سر انجام نہیں دے سکتا سیلز کا شعبہَ صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے بڑے سٹوروں میں خواتین جس قرینے اور سلیقے سے اشیاء کو ترتیب سے رکھتی ہیں یہ ان اداروں کی ترقی میں بہت معاون ثابت ہوتا ہے میری والدہ عام انتخابات میں جن کا میں ایک پروڈکٹ ہوں میرے لیے بہترین سیلز کے طور پر مجھے اجاگر کرتی ہیں جو میری سیاسی جدوجہد اور انتخابی کمپیئن میں بہت سود مند ثابت ہوتا ہے حضرو کی تعمیر و ترقی کیلئے وہ کوشاں ہیں پنجاب میں 2 ای لائبریریاں منظور ہوئی ہیں جن میں ایک حضرو انہوں نے اور دوسری تونسہ شریف میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے منظور کرائی ہے حضرو کی ای لائبریری میں پہلے 7 کروڑ روپے منظور ہوئے تھے جسے بڑھا کر 12 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے ایکسلٹریکا کا خواتین خصوصاً چھوٹی صنعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی ترقی میں اہم کردار ہے ممبر پنجاب بار کونسل سید عظمت علی بخاری ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے کہا کہ خواتین خصوصاً اٹک کی خواتین ہر شعبہَ میں اپنی صلاحیتیوں کے سبب ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں لاہور ہائی کورٹ میں سب سے زیادہ ججز کا تعلق اٹک سے ہے جن میں اٹک تحصیل حضرو سے تعلق رکھنے والی جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم بھی ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتیوں کا لوہا اپنے فیصلوں کے ذریعے منوایا ہے حنا منصب خان نے نہ صرف اٹک بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنی صلاحیتیوں کے سبب اٹک اور پاکستان کا نام روشن کیا ہے جو اٹک کیلئے فخر اور اعزاز کی بات ہے دنیا میں عورت کو سب سے زیادہ عزت رحمت کائنات حضرت محمد ْﷺ نے دی انہوں نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہٰ کے احترام میں اپنی چادر بچھا کر قیامت تک کیلئے عورت کو جو عزت دی اس کی نظیر تاریخ انسانی میں نہیں ملتی حنا منصب خان نے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں خواتین کے 16 چیمبرز ہیں جن میں سے 6 انہوں نے بنائے ہیں اٹک کی خواتین ہینڈی کرافٹ اور گھریلو صنعت میں بہت مہارت رکھتی ہیں حکومت یہاں پر مونگ پھلی کے حوالہ سے صنعت کے قیام کیلئے ٹھوس اقدامات کرے تو اٹک کی دور دراز کی خواتین کو بھی گھر بیٹھے روزگار کی فراہمی ممکن ہو گی اور خواتین کو ترقی کے دائرے میں لا کر پاکستان کا ’’ جی بی ڈی ‘‘ بڑھایا جا سکتا ہے خواتین کی ترقی کے حوالہ سے حکومتی بورڈ میں تمام مرد براجمان ہیں اٹک میں خواتین کو اس طرح کی ٹریننگ دینے کے حوالہ سے پروگرام کیے جائیں تو ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے ملکی ترقی کو تیز رفتار کیا جا سکتا ہے ۔
