حکومت کو طاقت کے ذریعے قوانین بنانے ہیں تو پارلیمان ختم کردے، بلاول بھٹو

اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو ایگزیکٹو پاورز کے ذریعے زبردستی قانون بنانا ہے تو پارلیمان کو پھر ختم کردے۔

پارلیمنٹ ہاوٴس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پارلیمان قانون ساز ادارہ ہے جس کا درست استعمال نہیں ہورہا، پی ایم ڈی سی آرڈیننس میں زبردستی توسیع کرائی گئی، آرڈیننس کی زبردستی توسیع پارلیمان کو مجروح کرنے کے مترادف ہے، اگر حکومت کو ایگزیکٹو پاورز کے ذریعے زبردستی قانون بنانا ہے تو پارلیمان کو پھر ختم کردے، حکومت اپنے مافیا کو سپورٹ کرنے کے لیے ایسے آرڈیننس لاتی ہے جس سے عوام بھی پریشان ہوتے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ کے معاملے پر 18 ویں آئینی ترمیم اور وفاق کو مجروح کیا جارہا ہے، وفاق جان بوجھ کر سندھ میں قیام امن کی صورت حال اور انتظامیہ کے کردار کو خراب کررہا ہے، کیوں کہ کیونکہ سندھ میں ان کی حکومت نہیں، جرائم بڑھنے کی ایک وجہ ملک کی بدترین معاشی صورت حال ہے، پہلے دن سے حکومت اور آئی ایم ایف کے گٹھ جوڑ کے خلاف ہیں، نااہل افراد نے آئی ایم ایف سے ایک غلط  معاہدہ کرتے ہوئے پاکستانی عوام کے مفادات پر سمجھوتہ کیا، حکومت کو پاکستان اور عوام کے مفادات سامنے رکھ کر آئی ایم ایف سے ڈیل ازسرنو کرنی ہوگی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جیسے ہی میں حکومت کے خلاف کوئی اعلان کرتا ہوں، نیب نوٹس بھیج دیتا ہے، نیب کو سوچنا ہوگا کہ کیا لوگ اس کو ایسے پہچانیں کہ وہ پی ٹی آئی کا ایک ادارہ ہے، نیب غیرجانب دار ادارہ ہے تو ایسے کیس کی تحقیقات نہ کرے کہ جب ایک شخص صرف ایک سال کا تھا، بلکہ ان کے خلاف تحقیقات کرے کہ جو آج حکومت میں ہیں، جن کی وجہ سے ملک میں 10 سال بعد آٹے کا بحران پیدا ہوا ہے، جن کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں، جن لوگوں کی وجہ سے اتنے سالوں میں بی آر ٹی کا ایک منصوبہ تک نہ بن سکا۔

چیئرمین پی پی پی نے  مزید کہا کہ نیب کا کردار سب کے سامنے ہے وہ صرف اپوزیشن کو ٹارگٹ کرتا ہے، جن کو عدالتوں نے سزا دی انہیں چھوڑدیا جاتا ہے، اس ملک کی جیلیں اور تحقیقاتی ادارے صرف سیاسی کارکنوں کے لیے ہیں، حکومت جتنے مرضی چاہے نوٹس بھیج دے، ہم عوام کے معاشی حقوق، مہنگائی اور پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔